’جیل قبول ہے جلاوطنی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے وطن واپسی کی کوشش میں ناکامی کے بعد فوج کی حمایت یافتہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیش واپس جا کر مقدمات کا سامنا کرنا چاہتی ہیں اور وہ اس حوالے سے جیل جانے کو بھی تیار میں۔ سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کو لندن سے ڈھاکہ جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز پر سوار ہونے کے لیے بورڈنگ پاس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ شیخ حسینہ واجد اتوار کی سہ پہر لندن سے ڈھاکہ جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 145 پر سوار ہونا چاہتی تھیں لیکن انہیں جہاز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بنگلہ دیش نے برٹش ایئر ویز کو خبردار کیا تھا کہ اگر حسینہ واجد ڈھاکہ آنےوالی پرواز پر سوار ہوں گی تو اس پرواز کو ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سے قبل ڈھاکہ میں ایک عدالت نے حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ شیخ حسینہ واجد پر ایک حریف سیاسی جماعت کے چار کارکنوں کو گزشتہ اکتوبر میں ایک ریلی کے دوران قتل کرنے کی سازش کا الزام ہے۔چار سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں کے علاوہ حسینہ واجد پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ شیخ حسینہ اس سال جنوری میں نگراں حکومت کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک چھوڑ کر لندن آ گئی تھیں۔ شیخ حسینہ نے ہفتے کے روز بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں نگراں حکومت پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی ’جنتا‘ ان کے ساتھ ہے اور انہیں ’دیش‘ واپس جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حسینہ واجد کو ملک میں داخل ہونے دیا گیا تو ان کی اشتعال انگیز تقریروں سے ملک میں بدامنی اور سیاسی انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے۔ | اسی بارے میں خالدہ ضیاء کا بیٹا گرفتار08 March, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: الیکشن 18 ماہ بعد05 April, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ11 April, 2007 | آس پاس خالدہ کے دوسرے بیٹے بھی گرفتار16 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||