بنگلہ دیش: الیکشن 18 ماہ بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابات میں کم سے کم اٹھارہ ماہ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے قوانین اور نئی انتخابی فہرستیں تیار کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جسے فوج کی حمایت حاصل ہے کئی ماہ کے تشدد اور مظاہروں کے بعد جنوری میں انتخابات مؤخر کر دیے تھے۔ بنگلہ دیش میں ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور درجنوں اعلیٰ سیاسی رہنما اور ان کے معاونین بد عنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ حکومت نے کہا کہ ملک میں انتخابات بد عنوانی سے نمٹنے کے بعد ہوں گے۔ بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات کے بارے میں بیان ڈھاکہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیا۔ اس سے چند روز پہلے امریکہ کے سفیر نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے لوگوں کو بتایا جانا چاہیے انہیں رائے دہی کا موقع کب ملے گا۔ گزشتہ ہفتے فوج کے سربراہ نے بیان دیا تھا کہ بنگلہ دیش کو دوبارہ ’انتخابی جمہوریت‘ کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ | اسی بارے میں خالدہ ضیاء کا بیٹا گرفتار08 March, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش،الیکشن کمشنر تعینات 05 February, 2007 | آس پاس سیاست کا راستہ کھلا ہے: یونس31 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: عام انتخابات جلد متوقع22 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||