سیاست کا راستہ کھلا ہے: یونس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے سیاست کے میدان میں آنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان دنوں ہندوستان کے دورے پر آئے مسٹر یونس یوں تو بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی حالات سے بہت خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نےامید ظاہر کی ہے کہ ملک میں جلد ہی بہتر ساکھ والی شخصیات سیاست کا حصہ بنیں گے۔ دارالحکومت دلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کر تے ہوئے مسٹر یونس نے کہا: ’میری شخصیت سیاست کے لیے مناسب تو نہیں ہے لیکن حالات نے مجبور کیا تو سیاست کے میدان میں آنے سے اعتراض نہیں کروں گا۔‘ انہوں نے مزيد کہا: ’ملک میں انتخابی سرگرمیاں معمول کے ساتھ چل رہیں ہیں اور عوام کو برابر کے مواقع بھی فراہم ہور ہے ہیں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ انتخابات میں داغدار سیاست داں ہی منتخب ہونگےکیوں کہ سیاست پر بدعنوانوں کا قبضہ ہے۔‘ مسٹر یونس کا کہنا تھا کہ سیاست سےگندی شخصیات کو باہر نکالنا بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ لیکن انہیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں سیاست کے میدان میں شفاف افراد ضرور حصہ لینگے۔ انہوں نے اپنے گرامین بینک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بینک 1992 سے دنیا کے مختلف ممالک میں کام کر رہا ہے اور ’مائکرو کریڈیٹ فائننسگ‘ میں اس نے کافی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں بھی گرامین بینک کی کامیابی کے بارے میں معلومات فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ’مائيکروں کریڈیٹ فائننسگ ٹرسٹ‘ ہندوستان سے بھی جڑی ہوئی ہے لیکن ہندوستان میں اس کا دفتر نہ ہونے کے سبب انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا جلد ہی گرامین بینک کی ایک شاخ ممبئی میں اپنا دفتر کھولنے جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسام کے عوام کافی عرصے سے گرامین بینک کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور اب ممبئی میں دفتر کھلنے سے آسام میں گرامین بینک کام کرنے میں آسانی ہوگی۔ | اسی بارے میں غربت اور چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری18 November, 2004 | Debate محمد یونس کا مائکرو کریڈِٹ13 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||