حسینہ واجد ڈھاکہ پہنچ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ جلا وطنی کی کوششوں کی مزاحمت کےبعد ڈھاکہ پہنچ گئی ہیں۔ عوامی لیگ کی رہنما نے کچھ روز قبل بھی بنگلہ دیش جانے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر جہاز میں سوار نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ بنگلہ دیش کی نگران حکومت شیخ حسینہ کو جلا وطن کرنا چاہتی تھی جِس دوران انہوں نے دو ماہ لندن میں گزارے۔ ان کی ڈھاکہ واپسی پر زبردست حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ ’یہ میرا ملک ہے، یہ میرا گھر ہے۔ میں واپس آنے پر بہت خوش ہوں‘۔ بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت سے قائم نگران حکومت نے جنوری میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی جس کے تحت سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے، تاہم شیخ حسینہ کی جماعت کے ارکان نے ان کے استقبال کی اجازت طلب کی تھی۔ ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ معاملات حکومت کی مرضی کے تحت حل ہوتے تو شیخ حسینہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہوتیں لیکن وہ ایک ہیرو کے طور پر واپس جا رہی ہیں۔ نگران حکومت کہہ چکی ہے کہ سابق وزرائے اعظم شیخ حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیاء کی ملک واپسی کی صورت میں اصلاحات کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس نے عالمی فضائی کمپنیوں کو شیخ حسینہ واجد کو واپسی کی سہولت فراہم کرنے سے روکا تھا اور خالدہ ضیاء کو سعودی عرب جانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی۔ نامہ نگار نے کہا تھا کہ اندرونی اور عالمی دباؤ کے تحت حکومت ان دونوں رہنماؤں کو جلا وطن کرنے کا ارادہ ترک کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ شیخ حسینہ واجد نے برٹش ایئرویز کے خلاف ان کو گزشتہ ہفتے بورڈنگ کارڈ جاری نہ کرنے پر بیس لاکھ ڈالر کے ہرجانے کے دعوے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ |
اسی بارے میں خالدہ ضیاء کا بیٹا گرفتار08 March, 2007 | آس پاس ’جیل قبول ہے جلاوطنی نہیں‘22 April, 2007 | آس پاس عبوری حکومت کے لیے نئے سربراہ12 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے انتخابات مؤخر30 January, 2007 | آس پاس جنرل ارشاد کی خود سپردگی کا حکم05 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||