بنگلہ دیش: بدترین بارشیں، 79 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں شدید بارشوں کے بعد مٹی کا تودہ گرنے سے بندرگاہی شہر چٹاگانگ میں اناسی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ بیشتر افراد اس وقت ہلاک یا لاپتہ ہوگئے جب شدید بارشوں کے باعث ایک پہاڑی ڈھے کر غریبوں کی ایک بستی کے اوپر جا گری۔ سینکڑوں زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے اور پولیس نے بتایا ہے کہ کئی لاشیں ابھی تک ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ اتوار کی صبح سے شروع ہونے والی مون سون کی شدید بارشوں سے بنگلہ دیش کا ایک بڑا حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور محکمۂ موسمیات کے اہلکاروں کے مطابق بارشیں کئی دن تک جاری رہیں گی۔ محکمۂ موسمیات کے ماہرین نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے ایک سو پینتیس میل (دو سو بیس کلومیٹر) جنوب مشرق میں واقع شہر چٹاگانگ میں صرف چند گھنٹوں میں بیس سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ امدادی کارکنوں نے مٹی کا تودہ گرنے کے بعد ملبے سے کئی لاشیں نکالیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ لاشیں تھیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ امدادی کام رات بھر جاری رہا اور اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ امدادی کاموں میں مدد کے لیے فوج کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقے میں دکانیں اور سکول بند ہیں اور سرکاری اہلکاروں کے مطابق کمر تک کھڑے پانی میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بدترین بارشیں ثابت ہوئی ہیں اور ٹنوں مٹی کے نیچے لاتعداد گھر دفن ہو کر رہ گئے ہیں۔ ابھی تک کئی مقامات پر امداد نہیں پہنچ سکی۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش سیلاب، صورتحال نازک26 July, 2004 | آس پاس خواتین و بچے بحران کا شکار20 September, 2004 | آس پاس ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ27 December, 2004 | آس پاس سیلاب کی فتح02 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش: زہریلے پانی پر کانفرنس 15 February, 2004 | آس پاس ’پانچ ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہے‘28 December, 2004 | آس پاس زلزلہ، طوفان، تیئس ہزار ہلاک27 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||