متاثرین کوبیماریوں کا خطرہ:اقوام متحدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں آنے والے سیلاب کے کروڑوں متاثرین کو ہنگامی طور پر امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا سامنا ہے۔ صحت عامہ سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور بچوں کی فلاح و بہبود کے اس کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں سیلاب کا ٹھہرا ہوا پانی ڈینگو اور ملیریا کے لیے ’زرخیز زمین‘ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش میں لگ بھگ اٹھائیس ملین افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں غذاء، پانی اور دوائیں پہنچانے کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن تینوں ممالک میں سیلاب سے جتنے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس کی بہ نسبت امدادی کارروائیوں کو اونٹ کے منہ میں زیرا بتایا گیا ہے۔ ہندوستان میں یونیسیف کے صحت عامہ کے سربراہ مارزیو ببیلے نے بتایا کہ اگر متاثرین تک فوری امداد نہ پہنچائی گئی تو تمام دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے۔
حالیہ سیلاب میں ہندوستان سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔ یہاں اترپردیش، بہار اور آسام کی ریاستوں میں اقوام متحدہ کے مطابق بیس ملین لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق بنگلہ دیش میں آٹھ ملین اور جنوبی نیپال میں تین لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے۔ اگرچہ نیپال اور بنگلہ دیش میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق کروڑوں متاثرین دور دراز علاقوں میں پھنسے ہیں جہاں امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔ لگ بھگ تمام متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کے ذرائع صاف شفاف نہیں رہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ہیلی کاپٹروں کی کمی کی وجہ سے امداد پہنچانے میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ سیلاب کے متاثرین لگ بھگ ایک ہفتے سے کھلے آسمان تلے ہیں اور ان کے گھر بہہ گئے ہیں۔ مزید بارشوں کی وارننگ
اقوام متحدہ نے کہا کہ صرف بہار میں امداد پہنچانے کے لیے اسے ہیلی کاپٹروں کی اشد ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بڑے پیمانے پر بچوں کی ادویات کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ برطانوی امدادی ایجنسیاں بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایجنسی ’سیو دی چلڈرین‘ نے جنوبی ایشیا کے سیلاب کو ایک عشرے کا سب سے بدترین سیلاب قرار دیا ہے۔ امدادی ادارے ’ایکشن ایڈ‘ نے، جو بنگلہ دیش میں متاثرین کے لیے کام کررہا ہے، کہا ہے کہ فوری طور پر جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہیں پینے کا پانی اور بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ادویات۔ ایک اور امدادی ادارے آکسفیم نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر امداد پہنچانے کے لیے تیار تھا جس کی وجہ سے متعدد جانیں بچائی جاچکی ہیں۔
|
اسی بارے میں اور اب امداد پہنچانے کی جنگ07 August, 2007 | انڈیا پناہ گزینوں کی ’قومی شاہراہ‘07 August, 2007 | انڈیا سیلاب کم لیکن امداد میں مشکلات06 August, 2007 | آس پاس سیلاب: کروڑوں امداد کے منتظر05 August, 2007 | آس پاس بہار: امدادی کارروائیاں شروع05 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: بگڑتی ہوئی صورتحال03 August, 2007 | انڈیا انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں03 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||