BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں کو وبائی امراض کا سامنا
ریاست بہار میں ستر لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں
جنوبی ایشیا میں سیلابی پانی اتر جانے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ پانی سے پیدا ہونے والی وبائی امراض میں متبلا ہو رہے ہیں جب کہ امدادی اداروں میں کام کرنے والے طبی عملے کو ادویات کی کمی کے باعث انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نشیبی مقامات پرسیلابی پانی سے بن جانے والے جھوڑ وبائی امراض کے پھیلنے کا سبب بن رہے ہیں۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش اور بہار میں ہزاروں کی تعداد میں ہیضے کے مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے جب کہ بنگلہ دیش میں ایک ڈاکٹر نے اس صورت حال کو ’میدان جنگ‘ سے تشبہہ دی ہے۔

بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں دو کروڑ اسی لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جہاں سیلاب کے دوران چار سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

 بھارت میں جاری کردہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق سیلاب سے بتیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں گاؤں اور دیہات اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ کئی ممالک کی طرف سے امداد کے وعدے کیئے جاچکے ہیں لیکن متاثرہ علاقوں میں لوگ خوارک اور پینے کے صاف پانی کی قلت کا شکار ہیں۔

بھارت میں جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے بتیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ مجموعی نقصانات کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دو ہفتوں سے جاری بارشوں کا سلسلہ تھم گیا ہے لیکن امدادی کارکنوں کو وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ درپیش ہے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہیضے کے لیے مخصوص ایک ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ دن رات سیلاب زدہ علاقوں سے آنے والے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔

ایک ڈاکٹر نے فرانسیسی خبررساں ادارے اےایف پی کو بتایا کہ یہ جنگ کی سی صورت ہے کچھ مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ تاہم انہوں نے دستیاب اداویات کے بارے میں کہا کہ وہ انتہائی موثر ہیں۔

بارشوں کےسلسلے نے گجرات کے بعد پاکستان کے جنوبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے

اترپردیش میں ایک سینئر ڈاکٹر ایل بی پرساد نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ بائیس اضلاع میں گزشتہ دس دنوں میں ہیضے کے ڈھائی ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔

تاہم ڈاکٹروں کی ایک غیر سرکاری ٹیم کے مطابق بیس ہزار کے قریب لوگ پانی سے پیدا ہونے والے وبائی امراض میں مبتلا ہیں۔

ڈاکٹر رمضان رائے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے طبی عملے کو ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

بہار میں صوبائی وزیر چندر موہن رائے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ انیس اضلاع میں ڈاکٹروں کی تعتیلات منسوخ کر دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے ان علاقوں میں وبائی امراض خاص طور پر خسرا سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے ابتدائی طور پر بہار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے تین کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارت کی ریاست گجرات میں گزشتہ ہفتےہونے والی شدید بارشوں میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ بائیس ہزار کے قریب بے گھر ہو گئے۔

اس کے علاوہ خطے میں ہونے والی بارشوں کے سلسلے نے ہمسایہ ملک پاکستان کے شہر کراچی کو اپنی زد میں لے لیا جہاں بارش کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔

ان حادثات میں چھتیں گرنے اور بجلی لگنے کے واقعات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے بارشوں کے اس سلسلے کی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا ہے اور کہا ہےکہ دنیا میں اس طرح کی قدرتی آفات زیادہ ہوتی جا رہی ہیں۔

بھارت ان حالیہ بارشوں میں سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے جہاں اترپردیش اور بہار کی ریاستوں میں سیلاب زدگان کی تعداد دو کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

بنگلہ دیش میں اسی لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ نیپال میں ایک لاکھ ستائیس ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں جہاں کم از کم ساڑھے چھبیس ہزار گھر یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں یا ان کو نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب کے متاثرینپناہ گزینوں کی شاہراہ
سیلاب کے متاثرین نے قومی شاہراہ پر پناہ لے لی
جنوبی ایشیا سیلابامداد شدید مشکل
جنوبی ایشیاء میں سیلاب متاثرین کو مشکلات
سیلابسیلاب کی تباہیاں
جنوبی ایشیا میں تیس سالوں میں ریکارڈ بارشیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد