ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گولا چیپا (بنگلہ دیش) |  |
| | سیلاب اور طوفان ایسی بلائیں ہیں جو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیوں میں کئی دفعہ تباہی لاتی ہیں |
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے انیس سو ستر میں آنے والے سمندری طوفان اور سیلاب کو آج تک نہیں بھولے۔ بنگلہ دیش تب مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بےگھر ہوئے تھے۔ دریا بوڑھا گورنگا کے کنارے واقع چھوٹا سا شہر گولا چیپا ان علاقوں میں شامل تھا جہاں جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہوا تھا۔ اس طوفان کو یاد کرتے ہوئے ایک شخص محمد خلیل الرحمٰن منشی نے بتایا کہ ’وہ ایک بڑی تباہی آئی تھی۔ گولا چیپا میں دس سے پندرہ ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ میں نے پینسٹھ کا سیلاب بھی دیکھا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے متاثرین کی مدد کی تھی۔ کچھ کو نقد رقم ملی تھی اور کچھ کو گھر تعمیر کرنے کا سامان۔‘  | | | غیر سرکاری تنظیمیں لوگوں کو سیلاب سے نمٹنے کی تربیت دیتی ہیں |
سیلاب اور طوفان ایسی بلائیں ہیں جو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیوں میں کئی دفعہ تباہی لاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طوفان کی پیشگی اطلاع اور اس کے نقصانات کم سے کم کرنے کے طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔ گولا چیپا کے ایک مچھیرے نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا۔ ’طوفان کی اطلاع ایک گھنٹہ پہلے ملتی ہے اور ہمیں ایک آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے محفوظ پناہ گاہ تک پہنچنے میں۔ طوفان کی وارننگ ریڈ کریسنٹ والے لاؤڈ سپیکر پر دیتے ہیں۔ اس علاقے میں طوفان اور سیلاب اب پہلے سے کم آتے ہیں۔ انیس سو ستر میں ایک بڑا طوفان آیا تھا، پھر دوبارہ ویسا طوفان کبھی نہیں آیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ معمول کے طوفانوں میں اب جانی نقصان تو کم ہوتا ہے لیکن گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ نئے گھر تعمیر نہیں کر سکتے وہ فٹ پاتھوں پر رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ گولا چیپا میں تیس سے چالیس کے درمیان سائکلیون شیلٹر ہیں۔ ان میں سے ایک میں جانے کا اتفاق ہوا جو انہتائی خستہ حال تھا۔  | | | معمول کے طوفان میں جانی نقصان تو کم ہوتا ہے لیکن گھر تباہ ہوجاتے ہیں |
یہ پناہ گاہ ایک پرائمری سکول کے ساتھ واقع تھی۔ پرائمری سکول کے ہیڈماسٹر سلطان احمد شیلٹر کی حالت زار پر سرکار سے بہت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا ’اب یہ شیلٹرکسی کام کا نہیں رہا۔ لوگ گلی محلوں میں پناہ لیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک سونامی وارننگ آئی تھی تو لوگوں نے قریب ہی ایک ہائی سکول کے برآمدوں میں چھپ کر پناہ لی تھی۔‘ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں لوگوں کو طوفانوں سے نمٹنے کی تربیت دیتی ہیں تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ ریڈ کریسنٹ اس حوالے سے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں خاصی متحرک ہے جو سکولوں میں جا کر طالبعلموں کو عملی مشقیں کراتی ہیں۔ ایک طالبعلم ثاقب نے بتایا کہ انہیں کس طرح کی تربیت دی گئی ہے۔  | پینسٹھ کا سیلاب   میں نے پینسٹھ کا سیلاب بھی دیکھا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے متاثرین کی مدد کی تھی۔ کچھ کو نقد رقم ملی تھی اور کچھ کو گھر تعمیر کرنے کا سامان  محمد خلیل الرحمٰن منشی |
’ریڈ کریسنٹ والے سکول میں آ کر طوفانوں سے نمٹنے کی عملی تربیت دیتے ہیں۔ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ طوفان آنے سے پہلے خشک خوارک اور پینے کے پانی کو کیسے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ہم خوراک کو پولیتھین کے لفافوں میں بند کر کے زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیتے ہیں۔ اس جگہ ہم کوئی نشانی لگا دیتے ہیں تا کہ طوفان گذرنے کے بعد محفوظ کی گئی خوراک ڈھونڈنے میں آسانی رہے۔ مال مویشی کو اونچی جگہوں پر لے جاتے ہیں، جو لوگوں نے مل کر تعمیر کی ہیں۔‘ آفات چاہے قدرتی ہوں یا انسانوں کی پیدا کردہ جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے ان کے نقصانات کو غالباً اسی طرح مل جل کر ہی کم کیا جا سکتا ہے۔ |