مرغی کا سن باتھ بارش کی علامت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر کسی مرغی کو سن باتھ یعنی دھوپ کے مزے لیتے دیکھیں تو سمجھیں بارش آنے والی ہے۔ یہ خیال ہے بنگلہ دیش کے دریائی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والوں لوگوں کا۔ وہ لوگ جو مکمل طور پر قدرت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور ان کے پاس آنے والے موسمی حالات کی پیشگی اطلاع کا کوئی جدید ذریعہ نہیں ہوتا تو وہ قدرتی آفات کے بارے میں اندازہ لگانے کے لیے ایسی ہی علامتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک بڑی کشتی پر بنگلہ دیش کے دریاؤں اور ساحلی علاقوں میں گھومتے ہوئے ہمیں اب کئی روز ہوچکے ہیں اور اس دوران ان علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ کچے گھروں کی جگہ اینٹوں، لکڑی اور ٹین سے بنے نسبتاً زیادہ مضبوط گھر لے رہے ہیں۔ چپوؤں سے چلنے والی کشتیوں میں انجن لگ گئے ہیں اور موبائل فون کا استعمال عام نظر آتا ہے۔ لیکن موبائل فون سے قدرت کے ساتھ رابطہ ممکن نہیں کہ معلوم کیا جا سکے کہ بارش کب ہوگی، سیلاب کا کوئی امکان یا طوفان آنے کا کوئی خطرہ ہے۔ ایسے میں لوگ کچھ واقعات سے آنے والے موسمی حالات اور خطرات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ایک مچھیرے کے مطابق چیونٹیوں کی حرکات سے انہیں آنے والے حالات کا پتہ چل جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیونٹیاں جب اپنے انڈے منہ میں ڈال کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا شروع کرتی ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے اور اگر وہ کسی اونچی جگہ جا رہی ہوں تو اس کا مطلب ہے سیلاب آنے والا ہے۔ چیونٹی جیسا چھوٹا جاندار بھی کتنی اہم اطلاع کا ذریعہ ہے۔ لیکن صرف چیونٹیوں سے ہی نہیں بلکہ مرغیوں سے بھی لوگ موسم کا حال معلوم کرتے ہیں۔ ہجلہ کے سکول میں درس و تدریس سے وابستہ ماسٹر غلام ربانی کے مطابق لوگوں کا خیال ہے کہ جب مرغیاں گھر کے صحن میں سورج کے سامنے لیٹ جائیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ بارش آنے والی ہے اور اگر آسمان پر شمال مغرب میں کالے گہرے بادل اکٹھے ہورہے ہوں تو اس کا مطلب ہے بارش گرج چمک کے ساتھ ہوگی۔ یہ اندازے بار بار کے مشاہدے کا نتیجہ ہیں لیکن ضروری نہیں ہر کوئی ان سے متفق بھی ہو۔ غلام ربانی کے ساتھ بیٹھے ایک شخص نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ’لیکن یہ اندازے ہر دفعہ درست نہیں ہوتے۔ ہاں کبھی اتفاق سے سچ ثابت بھی ہوجاتے ہیں۔ مثلاً گرمی بڑھ جائے، ہوا رک جائے اور لوگوں کو خارش ہونے لگ جائے تو کہا جاتا ہے کہ بارش ہونے والی ہے، لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ ایسا ہی ہو‘۔ ہو سکتا ہے اس بات میں وزن ہو لیکن بعض دفعہ سائنسی بنیادوں پر لگائے گئے اندازے بھی سو فیصد درست ثابت نہیں ہوتے۔ | اسی بارے میں ایورسٹ: اموات پر تشویش25 August, 2006 | نیٹ سائنس دس سالہ حدت کی پیش گوئی ممکن10 August, 2007 | نیٹ سائنس بارش کے لیے سیاروں کا جال03 April, 2006 | نیٹ سائنس ہاتھی، شیر،گینڈے: موسم لے ڈوبے گا!07 May, 2005 | نیٹ سائنس موسمی خطرات، احتیاط کی ضرورت17 March, 2007 | نیٹ سائنس سونامی وارننگ سسٹم پر سوال19 July, 2006 | نیٹ سائنس فارم لینڈ پرندے خاتمے کے قریب19 August, 2006 | نیٹ سائنس پرندے آلودگی کے ذمہ دار15 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||