ایورسٹ: اموات پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹروں نے تنبیہ کی ہے کہ ٹیکنالوجی میں بہتری اور سخت موسمی حالات کے بارے میں آگاہی کے باوجود کئی لوگ ماؤنٹ ایورسٹ پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایورسٹ کوہ پیمائی کے مشیر ڈاکٹر اینڈریو سودرلینڈ نے بتایا ہے کہ 2006 میں اب تک غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پندرہ افراد اس چوٹی پر ہلاک ہوئے ہیں۔ برطانوی میڈیکل جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال اس چوٹی کو کامیابی سے سر کرنے والے ہر دس افراد میں سے ایک ہلاک ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر سودرلینڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ بلندی کے اثرات کے بارے میں ناکافی معلومات ان اموات کی وجہ ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کو پہلی مرتبہ ایڈمنڈ ہلری اور شیرپا تینزِنگ نے 53 سال قبل سر کیا تھا۔ ڈاکٹر سودرلینڈ نے کہا ہے کہ اب لوگوں کو یہ آگاہی حاصل ہے کہ بلندی پر موسم سے مانوس کیسے ہوا جائے، کوہ پیمائی کے لیے بہترین آلات کون سے ہیں اور چوٹی سر کرنے کے لیے بنائے گئے راستے کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معلومات کو جاننے سے شرحِ اموات میں کمی ہونی چائیے تھی لیکن ایسا نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ تھکن اور زخموں کے باعث ہلاک ہوتے ہیں اور کوہ پیماؤں کی ایک بڑی تعداد اونچائی پر ہونے والی بیماریوں سے بھی مرتی ہے۔ ہائی الٹیچیوڈ سیریبرل اوڈیما اور ہائی الٹیچیوڈ پلمری اوڈیما دونوں ایسی بیماریاں ہیں جن سے دماغ اور پھیپڑوں میں پانی پیدا ہو جاتا ہے جس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ کئی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوہ پیمائی کا وسیع تجربہ ہے لیکن وہ ان حالات سے ناواقف ہے جن کا سامنا ان کو اتنی بلندی پر جا کے کرنا پڑتا ہے‘۔ ڈاکٹر سودرلینڈ نے بتایا ہے کہ عمومًا یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ اموات ناتجربہ کار کوہ پیماؤں میں ہوتی ہیں جو کہ یہ چوٹی سر کرنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ دیتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے ساتھ تجربہ کار گائیڈ ہوتے ہیں جس کے باعث وہ اکیلے جانے والے کوہ پیماؤں کی نسبت زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اموات اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ چوٹی سر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ان اموات کی وجہ بلندی پر موسم کی سختی سے لڑنے کی قوت کی کمی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیے بغیر اس بات کا تجربہ حاصل کرنا بہت مشکل ہے کہ کیمپ نمبر تین یعنی کہ آٹھ ہزار تین میٹر کے بعد موسم کیسا ہوتا ہے اور کوہ پیماہ یہ نہیں جانتے کہ اس بلندی پر وہ موسم کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ‘ ان کا کہنا ہے کہ ’جتنا زیادہ وقت آپ اس ’ڈیتھ ذوون‘ میں گزاریں گے اتنے ہی آپ کے مرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ کوہ پیماؤں کو یہ معلوم ہونا چاہییے کہ ان کے آگے بڑھنے کی رفتار کیا ہے اگر وہ سست پڑ جائیں تو یہ اس بات کے نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ غلط ہے اور انہیں فورا واپس چلا جانا چاہیے۔ ’لیکن لوگوں کی انا ان کو ایسا نہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور جب چوٹی کا سب سے اونچا مقام ان کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے تو وہ اس نصیحت پر عمل نہیں کرتے۔‘ | اسی بارے میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا نیا ریکارڈ 16.05.2002 | صفحۂ اول ایورسٹ: طیارہ حادثے میں دو ہلاک28.05.2003 | صفحۂ اول ایورسٹ: گولڈن جوبلی29.05.2003 | صفحۂ اول ایورسٹ کے ریکارڈ پر جھگڑا16.06.2003 | صفحۂ اول ایورسٹ ناپنے والا ہندوستانی21 October, 2003 | صفحۂ اول کیا ماؤنٹ ایورسٹ سکڑ رہا ہے؟25 January, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||