کیا ماؤنٹ ایورسٹ سکڑ رہا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے سکڑنے کے خدشے کے پیش نظر چین اس بلند و بالا پہاڑ کی دوبارہ پیمائش کرے گا۔ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے سبب ایورسٹ کی اونچائی میں چار فٹ کمی واقع ہو گئی ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ چین اور نیپال کی سرحد پر واقع ہے اور اس کی اونچائی کے بارے میں عرصے سے اختلافات سننے میں آ رہے ہیں۔ زمینی سروے کے ایک بھارتی ماہر نے انیس سو چون میں پہلی بار تھیوڈولائٹ نامی آپٹیکل آلہ کی مدد سے ایورسٹ کی پیمائش کی اور اس کی بلندی 8848 میٹر بتائی۔ 1999 میں امریکی سائنسدانوں نے گلوبل پوزیشننگ سیٹلائٹ سسٹم کی مدد سے ایورسٹ کی بلندی کی پیمائش دوبارہ کی اور بعد میں نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کی مدد سے یہ نتیجہ اخذ کیا پہاڑ اصل میں دو میٹر زیادہ بلند ہے۔ لیکن اب عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے سبب چوٹی پر موجود گلیشیئر کے پگھلنے بظاہر چٹان سکڑتی دکھائی دینے لگی ہے۔ اس تناظر میں چینی سائنسدان مارچ میں ایورسٹ کا دوبارہ پیمائش کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہیں اس کی اونچائی میں ایک میٹر کی مزید کمی تو واقع نہیں ہو گئی؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||