ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بنگلہ دیش |  |
 | | | کشتی پر بی بی سی کے مخلتف زبانوں کے صحافی سوار ہیں |
گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت کے اثرات کا پہلا شکار ماحولیات کے ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش ہوگا۔ درجۂ حرارت میں اضافے اور اس کے نتیجے میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے سبب خیال کیا جاتا ہے کہ سال دوہزار تیس تک بنگلہ دیش کے ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ بے گھر ہوجائیں گے اور اگر عالمی ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو رواں صدی کے آخر تک موجودہ بنگلہ دیش کا ایک چوتھائی حصہ سمندر کی نذرہوجائے گا۔ لیکن اس صورتحال کے ذمہ دار صدیوں سے دریاؤں اور سیلابوں کی سختیاں جھیلنے والے اس خطے کے باسی نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو ترقی کی دوڑ میں کاربن اور دوسری نقصان دہ گیسوں کے اخراج کا سبب ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اسی پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے بی بی سی کی عالمی سروس نے بی بی سی بنگالی سروس کی مدد سے ایک مہم شروع کی ہوئی ہے جس کا نام بنگالی میں ’نودی پوتھے بنگلہ دیش’ ہے جس کا مطلب ہے بنگلہ دیش کا سفر دریاؤں کے ذریعے۔ بنگلہ دیش کے دریاؤں کا یہ سفر ایک ماہ تک ایک کشتی پر جاری رہے گا۔ کشتی پر بی بی سی کے لیے مختلف زبانوں میں کام کرنے والے صحافی سوار ہیں اور وہ اپنے شب و روز اسی پر گزاریں گے تاکہ بنگلہ دیش کے دریاؤں کے کنارے بسنے والوں کے مسائل کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکیں۔ کشتی میں وقتاً فوقتاً ماحولیات کے ماہرین بھی سوار ہوتے رہیں گے۔ انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمنٹ چینج یعنی آئی پی سی سی کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
 | | | بنگلہ دیش کو دریاؤں کی سرزمین کہا جائے توغلط نہ ہوگا |
بنگلہ دیش کو دریاؤں کی سرزمین کہا جائے توغلط نہ ہوگا۔ تقریباً پندرہ کروڑ آبادی کے اس ملک میں چھوٹے بڑے کم و بیش سات سو دریا بہتے ہیں اور ان سب کے اپنے اپنے نام بھی ہیں۔ تاہم اس کے بڑے اور مشہور دریا میگھنا، پدما، برہماپترا اورگنگا ہیں۔بنگلہ دیش کے بڑے دریا مل کر سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہیکٹر رقبے پر بہتے ہیں۔ دریاؤں کے پانی سے ہی زمینیں سیراب ہوتی ہیں اور انہی کے ساتھ ماہی گیروں کا روزگار وابستہ ہیں۔ لیکن ہر سال سیلابوں کی شکل میں یہ دریا انسانی جانوں اور معاشی وسائل کا خراج بھی لیتے ہیں۔ آئی پی سی سی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو بنگلہ دیش کے دریاؤں میں آنے والے سالانہ سیلابوں کی شدت میں بیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ سیلابوں اور سطح سمندر میں اضافے سےماہرین کے مطابق جن بحرانوں کا سامنا ہوگا ان میں پینے کے پانی کی کمیابی، جنگلات اور جنگلی حیات کو خطرہ، بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت اور صحت کے مسائل شامل ہیں۔
|