بنگلہ دیش: ہلاکتیں دو ہزار ہوگئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی اور وسطی حصوں میں جمعرات کو آنے والے سمندری طوفان میں ہلاک ہونے والے کی تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے اور لاشیں نکالنے کا کام ابھی جاری ہے تاہم امدادی کام کرنے والوں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ متاثرین تک خوراک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طوفان سے پھیلنے والی تباہی وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہو رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امداد کارروائیوں میں مصروف بین الاقوامی رضاکار ادارے ہلالِ احمر کے ایک عہدیدار رندہیر کمار داس کا کہنا ہے کہ نقل و حمل کے غیر موثر نظام کی وجہ سے انہیں امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی ہی ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی ہلالِ احمر اور بنگلہ دیشی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پہلے دن سے ہی متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں اس دن سے کچھ نہیں کھایا جس روز طوفان آیا تھا۔ ’سدر‘ نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق دسیوں ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹیلی فون کے تاروں کے کٹ جانے اور سڑکوں پر پڑے ملبے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
ڈھاکہ سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈومیٹ نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر امدادی کام شروع کردیا گیا ہے۔ دریاؤں میں کشتیوں کی سروس بند ہے جبکہ سڑکوں پر درخت گرے پڑے ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹروں اور جہازوں نے سنیچر کو امدادی کاموں میں حصہ لیا اور بعض دور دراز علاقوں میں امدادی اشیاء اور ادویات پہنچائیں۔ فوجی جہازوں نے بعض سمندری گزرگاہوں کو صاف کرنے کا کام بھی سر انجام دیا جو سمندری طوفان کے باعث کشتیاں ڈوبنے سے بند ہو گئی تھیں۔ بعض علاقوں میں ہاتھیوں سے سڑکوں پر پڑے ملبے کو ہٹانے کا کام لیا گیا۔ خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں تاہم یہ طوفان کوئی نقصان پہنچائے بغیر دارالحکومت ڈھاکہ سے گزر گیا۔ بعد ازاں کئی گھنٹوں بعد ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں اس کا زور ٹوٹ گیا۔ بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں کم و بیش ہر سال سمندری طوفان اور سیلاب آتے ہیں تاہم ملک میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران آنے والا ’سدر طوفان‘ انتہائی طاقتور ہے۔ 1991 میں آنے والے ایک اور سمندری طوفان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں سمندری طوفان سے چھ سو ہلاک16 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: بدترین بارشیں، 79 ہلاک11 June, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: سمندری طوفان کا خطرہ15 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش، انسانی بحران کا خدشہ27 July, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش: مدد کے لیے اپیل03 August, 2004 | آس پاس سیلاب کی فتح02 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش سیلاب، صورتحال نازک26 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||