BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 November, 2007, 01:48 GMT 06:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: ہلاکتیں دو ہزار ہوگئیں
بنگلہ دیش
متاثرہ علاقوں میں اکثر لوگوں نے جمعرات سے کچھ نہیں کھایا
بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی اور وسطی حصوں میں جمعرات کو آنے والے سمندری طوفان میں ہلاک ہونے والے کی تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے اور لاشیں نکالنے کا کام ابھی جاری ہے تاہم امدادی کام کرنے والوں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔


متاثرین تک خوراک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طوفان سے پھیلنے والی تباہی وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہو رہی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امداد کارروائیوں میں مصروف بین الاقوامی رضاکار ادارے ہلالِ احمر کے ایک عہدیدار رندہیر کمار داس کا کہنا ہے کہ نقل و حمل کے غیر موثر نظام کی وجہ سے انہیں امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی ہی ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی ہلالِ احمر اور بنگلہ دیشی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پہلے دن سے ہی متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں اس دن سے کچھ نہیں کھایا جس روز طوفان آیا تھا۔

’سدر‘ نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق دسیوں ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹیلی فون کے تاروں کے کٹ جانے اور سڑکوں پر پڑے ملبے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے

ڈھاکہ سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈومیٹ نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر امدادی کام شروع کردیا گیا ہے۔ دریاؤں میں کشتیوں کی سروس بند ہے جبکہ سڑکوں پر درخت گرے پڑے ہیں۔

فوجی ہیلی کاپٹروں اور جہازوں نے سنیچر کو امدادی کاموں میں حصہ لیا اور بعض دور دراز علاقوں میں امدادی اشیاء اور ادویات پہنچائیں۔ فوجی جہازوں نے بعض سمندری گزرگاہوں کو صاف کرنے کا کام بھی سر انجام دیا جو سمندری طوفان کے باعث کشتیاں ڈوبنے سے بند ہو گئی تھیں۔ بعض علاقوں میں ہاتھیوں سے سڑکوں پر پڑے ملبے کو ہٹانے کا کام لیا گیا۔

خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں تاہم یہ طوفان کوئی نقصان پہنچائے بغیر دارالحکومت ڈھاکہ سے گزر گیا۔ بعد ازاں کئی گھنٹوں بعد ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں اس کا زور ٹوٹ گیا۔

بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں کم و بیش ہر سال سمندری طوفان اور سیلاب آتے ہیں تاہم ملک میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران آنے والا ’سدر طوفان‘ انتہائی طاقتور ہے۔ 1991 میں آنے والے ایک اور سمندری طوفان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کی کشتیبنگلہ دیش پہلا شکار
’عالمی حدت سے بنگلہ دیش کو شدید خطرہ ہے‘
سیلاب زدہسیلاب سے تباہی
متاثرین کوخوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا
بنگلہ دیشسیلاب جو نہیں بھولتا
بنگلہ دیش: لوگ قدرتی آفت سے کیسے نمٹتے ہیں
جنوبی ایشیا سیلابامداد شدید مشکل
جنوبی ایشیاء میں سیلاب متاثرین کو مشکلات
اسی بارے میں
بنگلہ دیش کے مسائل
15 August, 2007 | آس پاس
سیلاب کی فتح
02 August, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد