1500ہلاک، امدادی کام جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں امدادی کارکن ملک کے مرکزی اور جنوبی ساحلی علاقوں میں آنے والے تیز سمندری طوفان کے بعد وہاں پھنسے ہوئے لاکھوں افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جمعرات کو آنے والے اس تیز سمندری طوفان کے باعث ساحلی علاقوں میں کئی دیہات تباہ ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ سو سے زائد ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ’سدر‘ نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق دسیوں ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹیلی فون کے تاروں کے کٹ جانے اور سڑکوں پر پڑے ملبے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ڈھاکہ سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈومیٹ نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر امدادی کام شروع کردیا گیا ہے۔ طوفان کے بعد ہونے والے نقصانات کا اندازہ سنیچر تک ہی مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ دریاؤں میں فیری سروس بند ہے جبکہ سڑکوں پر درخت گرے پڑے ہیں۔
خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں تاہم یہ طوفان کوئی نقصان پہنچائے بغیر دارالحکومت ڈھاکہ سے گزر گیا۔ بعد ازاں کئی گھنٹوں بعد ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں اس کا زور ٹوٹ گیا۔ نامہ نگار کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کئی دیہات زمین بوس ہو گئے ہیں جبکہ کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق ملک کے جنوبی حصوں میں تعمیر نوِ کا کام حکومت کے لیے سب سے بڑا چلینج ہوگا۔ ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع ضلع بگرہات سے ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سمندری طوفان کے باعث ان کے گاؤں کے اسی فیصد گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ مقامی تاجر ملک طارق الرحمان نے بتایا: ’میں اس وقت نقصان کا درست اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قیامت آگئی ہو۔ طوفان کے دوران یہ پانچ گھنٹے میری زندگی کا سب سے کڑا وقت تھا۔ میرا خیال تھا کہ جیسے میں دوبارہ اپنے خاندان والوں سے نہیں مل سکوں گا۔‘ انہوں نے بتایا: ’یہاں ہر طرف تباہی ہی تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ اس وقت حال یہ ہے ہم یہ بھی نہیں پہچان سکتے کہ ہمارے گھر کہاں تھے۔ چند ہی مکانات باقی بچے ہیں جن کی بھی چھتیں نہیں ہیں۔‘ متعدد افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی ہلاکت لکڑی، ٹن اور چھپر سے بنے گھروں پر درخت گرنے کی وجہ سے ہوئی۔
خلیج بنگال میں ماہی گیروں کی کم سے کم ڈیڑھ سو کشتیاں ابھی سمندر سے نہیں لوٹی ہیں اور سینکڑوں ماہی گیر لاپتہ بتائے جارہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی خبر رساں ایجنسی یونائیٹڈ نیوز نے اپنے رپورٹروں سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد گیارہ سو بتائی ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ برائے خوراک کے ایک اہلکار نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء، پانی کو صاف کرنے کی گولیوں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ ادارۂ برائے خوراک ہنگامی طور پر چار لاکھ افراد کے لیے خوراک بھیج رہا ہے۔ حکومت، ریڈ کراس اور دیگر غیر سرکاری تنظیمیں بھی ٹیمیں بھیج رہی ہیں۔ انیس سو ستر میں آنے والے ایک تباہ کن طوفان جس نے پانچ لاکھ افراد کی جان لی تھی اس کے بعد سے بنگلہ دیش میں طوفان سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے امدادی مراکز بنائے گئے ہیں جبکہ طوفان کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں کم و بیش ہر سال سمندری طوفان اور سیلاب آتے ہیں تاہم ملک میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران آنے والا ’سدر طوفان‘ انتہائی طاقتور ہے۔ 1991 میں آنے والے ایک اور سمندری طوفان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں سمندری طوفان سے چھ سو ہلاک16 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: بدترین بارشیں، 79 ہلاک11 June, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: سمندری طوفان کا خطرہ15 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش، انسانی بحران کا خدشہ27 July, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش: مدد کے لیے اپیل03 August, 2004 | آس پاس سیلاب کی فتح02 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش سیلاب، صورتحال نازک26 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||