کامن ویلتھ میں ماحول پر بات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوگنڈا میں جاری دولت مشترکہ کے اجلاس کے دوسرے دن رکن ممالک کا زیادہ تر زور ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر ہے۔ برطانیہ سمیت گروپ کے کئی رکن ممالک چاہتے ہیں کہ اگلے ماہ بالی میں اقوام متحدہ کی کیوٹو پروٹوکول کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت سے قبل ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر کوئی موثر بیان جاری کیا جائے۔ واضح رہے کہ کیوٹو پروٹوکول کی جگہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیسوں کی کٹوتی کے مسئلے پر کسی نئے معاہدے کی تشکیل کے سلسلے میں اگلے ماہ بالی میں اقوام متحدہ کا ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے۔ کیوٹو پروٹوکول 2012 میں ختم ہو جائے گا۔ تاہم اس مسئلے پر 53 رکنی گروپ ابھی کسی متفقہ فیصلے پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے اور اطلاعات ہیں گروپ کے دو رکن ممالک آسٹریلیا اور کینیڈا ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی حمتی بیان جاری کیے جانے کی مخالف کر رہے ہیں۔ دولت مشترکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسئلے پر رکن ممالک کے درمیان اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم کینیڈا کا اصرار ہے کہ کسی بھی بیان سے قبل امریکہ سمیت دنیا کی آلودگی میں اضافہ کرنے والے دیگر بڑے ممالک کی جانب سے بھی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر امریکہ نے ابھی تک کسی بھی ایسے اہداف مقرر کیے جانے کی مخالفت کی ہے جس میں اسے کسی بندش کا خطرہ ہو۔ امریکہ کی طرح آسٹریلیا بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور اس نے بھی ابھی تک کیوٹو پروٹوکول پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں ماحولیاتی تبدیلی، ڈیواس کا ایجنڈا24 January, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلیاں: سنجیدگی کا وقت02 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی اربوں کو خطرہ09 April, 2007 | نیٹ سائنس معاشی ترقی کیساتھ ماحولیاتی تبدیلی04 June, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلیوں پر عالمی اجلاس04 August, 2007 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی تبدیلی پر مل کر کام‘17 November, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||