شمالی کوریا مذاکرات پھر شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا کے مذاکرات کار کے مطابق شمالی کوریا کے ایٹمی معاملے پر چھ ملکی مذاکرات جمعرات سے شروع ہونے والے ہیں۔ شمالی کوریا کے ایٹمی معاملے پر مذاکرات گزشتہ نو ماہ سے رکے ہوئے تھے۔ جنوبی کوریا کے مذاکرات کار کِم سُوک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ، چین، جاپان، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا اور روس کے سفارتکار بیجنگ پر اس معاملے پر بات کرینگے۔ دو ہفتے قبل شمالی کوریا نے غیرمتوقع طور پر اپنے پلوٹینیم پروگرام سے متعلق ایک دستاویز چین کو فراہم کیا تھا۔ چھ ملکی مذاکرات کے دوران شمالی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام بند کرنے کے لیے راضی ہوگیا تھا۔ حال ہی میں شمالی کوریا پر عائد کچھ پابندیاں امریکہ نے ہٹالی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات سے شروع ہونے والے چھ ملکی مذاکرات میں اس بات پر توجہ دی جائے گی کہ چین کے حوالے کیے جانے والے شمالی کوریا کے دستاویز میں جو دعوے کیے گئے ہیں ان کی تصدیق کیسے کی جائے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا نے دستاویز میں اس بات کا اعتراف نہیں کیا ہوگا کہ وہ ہتھیار جمع کررہا ہے، نہ ہی اس نے یورینیم کی افزودگی سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہونگی۔ | اسی بارے میں یورینیم افزودگی باعثِ تشویش: بش06 July, 2008 | آس پاس شام، شمالی کوریا کاایٹمی تعاون 24 April, 2008 | آس پاس امریکی اہلکار شمالی کوریا میں 22 April, 2008 | آس پاس شمالی کوریا: ایٹمی تفصیلات فراہم26 June, 2008 | آس پاس شمالی کوریا پرپابندیوں میں کمی27 June, 2008 | آس پاس پیکیج قبول کرلینا چاہیے: ایرانی مشیر02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||