ثبوت مہیا کرنے کا مقصد تھا: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے خفیہ اداروں کی طرف سے شام اور شمالی کوریا کے درمیان مبینہ جوہری تعاون کے بارے میں ثبوت آشکار کرنے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ان دنوں ملکوں شام اور شمالی کوریا کے علاوہ ایران کو واضح پیغام دینا تھا۔ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے کانگرس کو ایک بریفنگ میں شمالی کوریا کی مبینہ مدد سے شام میں بنائے جانے جوہری کارخانے کی تصاویر دکھائی تھیں۔ امریکی حکومت کی طرف سے شام کے اس جوہری ری ایکٹر کے بارے میں ثبوت اسرائیل کے فضائی حملے میں اس کے تباہ کئے جانے کے سات ماہ بعد پیش کیئے گئے ہیں۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے امریکہ کی طرف سے ان شواہد کو اتنے عرصے تک چھپائے رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا کہ وہ اس انکشاف سے کچھ پالیسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس کا ایک مقصد شمال کوریا کو یہ باور کرنا تھا کہ امریکہ اس کے اندازوں سے زیادہ اس کے بارے میں معلومات رکھتا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ اس کے علاوہ اس سے ایران اور دنیا کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ جوہری ہتھیاروں کا پھلاؤ مشرق وسطی کو کس قدر عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان شواہد کو ان خدشات کے پیش نظر رکھا گیا کہ کہیں یہ ٹکراؤ اور رد عمل کا باعث نہ بنیں۔ یہ مبینہ جوہری ری ایکٹر جو کہ شمالی کوریا میں ایک جوہری ری ایکٹر جیسا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس جوہری ری ایکٹر کی تکمیل میں چند ہفتے یا مہینے رہ گئے تھے۔ شام کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جس جگہ بمباری کی تھی وہاں ایک فوجی عمارت زیر تعمیر تھی۔ شام نے کہا کہ فضائی حملے سے قبل اس عمارت کی تعمیر کا کام بند کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں اسرائیل نے شام پر حملہ کیا: امریکہ12 September, 2007 | آس پاس شام پر فوجی حملے کا اسرائیلی اعتراف02 October, 2007 | آس پاس شام، شمالی کوریا کاایٹمی تعاون 24 April, 2008 | آس پاس ’شام کی خفیہ ایٹمی سکیم تھی‘25 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||