مثبت بات چیت کے خواہاں ہیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری معاملات پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی نے ایٹمی تنازعے پر مغربی ممالک کے ساتھ ہونے والے اجلاس پر، جس میں امریکہ بھی شریک ہو رہا ہے، محتاط انداز میں امید کا اظہار کیا ہے۔ اعلیٰ امریکی اہلکار ولیم برنز اس اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں اور ایران کے ساتھ امریکہ کی یہ براہ راست بات چیت کئی عشرے بعد ہو رہی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویئر سولانا کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے قبل تہران میں سعید جلیلی نے کہا کہ وہ ’تعمیری بات چیت‘ کی امید کرتے ہیں۔ مذاکرات کے بارے میں سعید جلیلی نے کہا: ’اگر یہ تعمیری طور سے ہوتے ہیں۔۔۔ یقینا ہم تعمیری مذاکرات کریں گے۔‘ سعید جلیلی ہاویئر سولانا کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے عوض میں مغربی ممالک کا امدادی پیکیج زیر غور ہوگا۔ مغربی ممالک کے جواب میں ایران نے بھی اپنا پیکیج تیار کیا ہے جس پر بات چیت ہوگی۔ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق سعید جلیلی نے کہا: ’ان مذاکرات میں ہم دونوں پیکجز پر مشترکہ نکات اور مذاکرات جاری رکھنے کے بارے میں فریقین کی آراء کا بھی جائزہ لیں گے۔‘ جنیوا میں سنیچر کو ہونے والے اجلاس میں مغربی ممالک یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے امدادی پیکیج پر ایران کا موقف کیا ہے اور کیا وہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق اپنا پروگرام معطل کرے گا۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دمشق کے دورے پر ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ تہران اس اجلاس میں مثبت بات چیت کا خواہاں ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لِن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایٹمی تنازعے کو حل کرنے کے لیے اقدام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیاس ہے کہ ایران مغرب کی طرف سے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کچھ شرائط مان لے گا اور اس کے بدلے میں تہران پر عائد نئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ ادھر امریکہ کی جانب سے اجلاس میں شرکت کے اعلان پر فرانسیسی وزیرِ خارجہ برنارڈ کچنر نے ویانا میں کہا ہے کہ ’امریکہ کی شمولیت ایک مثبت قدم ہے اور یہ انتہائی دلچسپ صورتحال ہے کہ ہمارے امریکی دوست اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔‘ امریکہ ان چھ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کو ایٹمی پروگرام کی معطلی سے مشروط کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے ماضی میں ایرانی حکام کے ساتھ ایٹمی تنازعے پر براہ راست بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ اور گزشتہ دنوں برطانوی اخبار گارڈین میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق امریکہ آئندہ ماہ تہران میں اپنا ایک سفارتی دفتر کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے توگزشتہ تیس سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی امریکی سفارت کار ایران بھیجا جائے گا۔ | اسی بارے میں اسرائیل تک مار کرنے والا میزائل09 July, 2008 | آس پاس ایران پر مزید اقتصادی پابندی09 July, 2008 | آس پاس پیکیج قبول کرلینا چاہیے: ایرانی مشیر02 July, 2008 | آس پاس یورینیم، افزودگی نہیں رکے گی: ایران14 June, 2008 | آس پاس ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکی06 June, 2008 | آس پاس ’ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے‘03 June, 2008 | آس پاس ’ایران پرحملہ ہوا تو مستعفیٰ دوں گا‘27 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||