ایران: ’انوکھے ہتھیار کا تجربہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اطلاعات کے مطابق ایک نئے سمندری ہتھیار کا تجربہ کیا ہے۔ ایران میں خبر رساں ایجنسی اِرنا نے پاسداران انقلاب کے سربراہ سے ایک بیان منسوب کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نئے ہتھیار کی مار تین سو کلومیٹر ہے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد علی جعفری نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ ہتھیار بالکل انوکھا ہے اور ایسا ہتھیار دنیا کے کسی اور ملک کی فوج کے پاس نہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تجربہ کب اور کہاں کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ’نئے ہتھیار‘ کی مار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قسم کا تارپیڈو ہے۔ ایران نے گزشتہ ماہ خلیج فارس میں میزائیلوں اور تارپیڈو کے تجربات کیے تھے اور اس نے دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ دوری تک مار کرنے کی صلاحیت والے ایک میزائیل شہاب کے کامیاب تجربے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ اِرنا کے مطابق جعفری نے کہا کہ حملے کی صورت میں ایران جیسے ممکن ہوا، جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جنگ کم سے کم وقت میں ختم کرنا چاہے گا لیکن ’ہم اسے طول دیں گے‘۔ | اسی بارے میں ایٹمی مذاکرات پر سنجیدہ: ایران03 August, 2008 | آس پاس ایران میزائل تجربہ، امریکہ کی مذمت09 July, 2008 | آس پاس ایران پرحملے کی ’پیشگی‘ مشق 20 June, 2008 | آس پاس اسرائیل کا حملہ ناممکن: ایران22 June, 2008 | آس پاس حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران 07 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||