ایران میزائل تجربہ، امریکہ کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور امریکہ نےطویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل ’شہاب سوئم‘ کا تجربہ کرنے پر ایران کی مذمت کی ہے۔ یہ میزائل اسرائیل میں اندر تک مار کر سکتا ہے۔ ایران نے میزائلوں کی تجربات پہلے بھی کیے ہیں لیکن تازہ ترین تجربہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایرانی جوہری پروگرام کے تنازع پر تہران کی واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیئم برنز نے ایران کے اس تجربے کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے ایک اجلاس کے دوران انہوں نے کہا ’طاقت کا استعمال ایک راستہ ہے لیکن یہ (تجویز) ابھی میز پر ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ابھی تمام سفارتی امکانات کو پوری طرح آزمایا نہیں گیا۔ ولیئم برن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیاں مطلوبہ اثر پیدا کر رہی ہیں اور تہران کا جوہری پروگرام رک رہا ہے اگرچہ ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ اس کا پروگرام آگے بڑھ رہا ہے لیکن حقیقت میں اس کی رفتار بہت ہی کم ہے۔
ادھر اسرائیلی پارلیمان میں ہاؤسنگ کے وزیر زیئف بوئم نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے میزائل تجربے پر بات چیت نہیں کرے گا لیکن اسے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے شہاب تین کی رینج دو ہزار کلو میٹر ہے اور یہ ان نو میزائیلوں میں سے ایک ہے جسے کسی نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جانڈرو نے کہا ہے کہ اگر ایران دنیا کا اعتماد حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے مزید میزائل ٹیسٹوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ منگل کے روز امریکی حکومت نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق کچھ اداروں اور افراد پر نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اِن پابندیوں کا اِطلاق اُن اداروں اور افراد پر ہوگا جن کے بارے میں محکمے کو یہ شک ہوگا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو فروغ دینے میں شریک ہیں۔
ممنوعہ فہرست میں کئی ایرانی کمپنیوں کے ساتھ ایک ایرانی جوہری سائنسداں محسن فخریزادے مہابادی بھی شامل ہیں۔ نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکی تجارتی اداروں پر ایرانی کپمنیوں اور مذکورہ سائینسداں سے نہ صرف کاروبار کی ممانعت ہوگی بلکہ امریکہ میں موجود ان کے تمام اثاثے بھی منجمد کردیے جائیں گے۔ امریکی پابندیاں دراصل ایران کو یورینیم کی افزودگی سے باز رکھنے کے لیے ہیں۔ ایران اس کو اپنا حق قراردیتا ہے۔ جاپان میں جاری آٹھ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی ایٹ کے اجلاس میں بھی ایران سے یورینیم کی افزودگی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے اِن پابندیوں کا اعلان ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مشیر کی جانب سے اُس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جواباً اسرائیل کے شہر تل ابیب اور خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ’ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے‘03 June, 2008 | آس پاس یورینیم، افزودگی نہیں رکے گی: ایران14 June, 2008 | آس پاس شادی کر لو نہیں تو نوکری چلے جائے گی11 June, 2008 | آس پاس ’ایران پرحملہ ہوا تو استعفیٰ دوں گا‘21 June, 2008 | آس پاس اسرائیل کا حملہ ناممکن: ایران22 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||