BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 August, 2008, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی مذاکرات پر سنجیدہ: ایران
 ایران کے صدر احمدی نژاد
اس حوالے سے کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق نہیں کیا گیا تھا:ایران
اس بیان کے ایک دن بعد کہ ایران ایٹمی معاملے پر ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ بات چیت کے لیے سنجیدہ ہیں۔

تاہم اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر ایک خطاب کے دوران ایرانی صدر نے مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کی کوششوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔

ایران کو مغربی ممالک نے حالیہ مذاکرات کے دوران چودہ دن کی ڈیڈلائن دی تھی کہ وہ امدادی پیکیج پر اپنا موقف پیش کرے۔ یہ ڈیڈلائن گزشتہ سنیچر کو ختم ہوگئی۔

اتوار کے روز دارالحکومت تہران میں ایرانی صدر نے کہا: ’ہم مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات قانون پر مبنی ہوں تاکہ ان کے قابل عمل نتائج نکلیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہم سجھتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی سنجیدہ ہو۔‘

صدر احمدی نژاد شام کے صدر بشر الاسد کے ساتھ دو روزہ ملاقاتوں کے بعد ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بشر الاسد نے پہلے مغرب کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرینگے تاکہ ایٹمی تنازعے کو حل کیا جاسکے۔

پریس کانفرنس کے دوران بشر الاسد نے کہا: ’میں ثالث یا ایلچی نہیں ہوں۔ اور نہ ہی کسی مغربی اہلکار نے مجھے کوئی پیغام پہنچانے کو کہا تھا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ ایٹمی تنازعے پر بات ہوئی ہے لیکن انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

انیس جولائی کو ایران کو اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کی کی پیشکش کی گئی تھی اور اس سلسلے میں جواب دینے کے لیے اسے چودہ دن کی مہلت دی گئی تھی جو اب ختم ہوگئی ہے۔

سنیچر کو جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے ایران کو ایک مرتبہ پھر متنبہ کیا تھا کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کی بین الاقوامی پیشکش کا ’واضح جواب‘ دے اور وقت ضائع کرنے سے گریز کرے۔

فرینک والٹر سٹینمائر نے ایک جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’میں ایک بار پھر ایران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وقت ضائع کرنا ترک کر دیں اور ہماری پیشکش کا ایسا جواب دیں جس پر عمل کیا جا سکے۔‘

اس پر آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم نے دو ہفتے کی کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق یا بات نہیں کی تھی‘۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تین مرحلوں میں ایران پر پابندیاں عائد کر چکی ہے اور امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے حالیہ پیشکش قبول نہ کی تو چوتھے مرحلے کی پابندیاں بھی لگا دی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد