جوہری تنازعہ:ایران پر مزید پابندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے کی وجہ ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی منظور دے دی ہے۔ سیکورٹی کونسل کے پندرہ میں چودہ ممبران نے ایران پر پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ایک ممبر انڈونیشیا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سکیورٹی کے تمام مستقل ممبران نے فرانس اور برطانیہ کی طرف سے مشترکہ قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ غیر مستقل ممالک میں نو نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ انڈونیشیا نے ووٹ نہیں دیا۔ نئی پابندیوں میں ایران کی تیرہ کمپنیوں کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کیا جا سکے گا اور ایرانی اہلکاروں کے بیرون ممالک دوروں پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔ مغربی ممالک کا اصرار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران نے عالمی دباؤ کے تحت یورینیم کو افزودہ کرنے کے عمل کو روکنے سے انکار کیا ہے۔ ایران کے خلاف پابندیوں کی یہ تیسری قرار داد تھے جسے برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ طور پر سیکورٹی کونسل کے سامنے پیش کیا تھا۔سن دو ہزار چھ اور دو ہزار سات میں بھی ایران پر پابندیاں لگائی پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن وہ کارگر ثابت نہ سکیں۔ اس قرار داد کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کوئی ایسی ٹیکنالوجی ایران کو فروخت نہ کریں جس کودوہرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریولان نے کہا کہ منظور کی جانے والی قرارداد ایران پر کم سے کم پابندیاں کی حمایت کرتی ہے اور اس کی حمایت روس اور چین نے بھی کی جن کے ایران کے تعلقات ہیں۔سکیورٹی کونسل کے پانچوں مستقل ممبران -امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، اور چین کی حمایت حاصل ہے۔ اقوم متحدہ میں ایران کے سفیر محمد خازی نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے منظور کی گئی اور غیر قانونی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا کہ دنیا ایران کے خطرناک حکمرانوں کے ہاتھ میں جوہری ٹیکنالوجی کو ہرگز قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ برطانیہ کے سفیر نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران یورپی یونین کے پالیسی چیف یوویر سولانہ سے کہیں گے کہ وہ ایران کے جوہری مذاکرات کار سے مل کر ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے حصول سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔ | اسی بارے میں جوہری معاملے پر ’عظیم فتح‘27 February, 2008 | آس پاس ایران سب سے بڑا دہشتگرد ہے: بش14 January, 2008 | آس پاس ایران کا سامنا کرنا ہوگا: صدر بش 13 January, 2008 | آس پاس ایران پر مزید پابندیوں کےلیےاتفاق23 January, 2008 | آس پاس ایران بم بنا رہا ہے: برطانوی پارلیمان02 March, 2008 | آس پاس ’جوہری پروگرام کا معاوضہ نہیں ملا‘02 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||