ایران پر مزید پابندیوں کےلیےاتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برلن میں ہونےوالے ایک اجلاس کے دوران سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے وزرائے خارجہ ایران کے خلاف مزید پابندیوں کے لیے قرارداد کے متن پر متفق ہوگئے ہیں۔ ایران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کے لیے اس قرارداد کے تحت تجویز کردہ پابندیوں کی چین اور روس نے مخالفت کرنے کی کافی کوششیں کی۔ برلن اجلاس کے دوران موجود سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف تجویز کردہ پابندیاں پہلے سے سخت ہیں۔ ایران کے خلاف پہلے سے ہی اقتصادی پابندیاں عائد ہیں۔ امریکہ اور بعض دیگر مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔ برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر پابندیاں لگانے کی تیسری قرارداد میں ایران کے بینکنگ اور کاروباری شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ایک فرانسیسی سفارتکار نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں ماہ کے آخر تک سلامتی کونسل میں تیسری قرارداد کا مسودہ پیش کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘ |
اسی بارے میں ایران سب سے بڑا دہشتگرد ہے: بش14 January, 2008 | آس پاس خلیج میں غیر ارادی تصادم کے خطرات12 January, 2008 | آس پاس محمد البرادعی ایران پہنچ گئے11 January, 2008 | آس پاس روسی جوہری ایندھن ایران روانہ17 December, 2007 | آس پاس ایران اب جوہری منصوبہ ترک کردے: امریکہ17 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||