BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2009, 07:54 GMT 12:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں‘
جارج میچل مصر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ فائربندی کو مستحکم بنانے پر بات چیت کریں گے
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔

صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے باقاعدہ ٹی وی انٹرویو میں صدر اوباما نے دبئی سے نشر ہونے والے العربیہ ٹی وی سے کہا کہ امریکہ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے اس نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہ بہترین نہیں تھی۔

اسی دوران باراک اوباما کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی جارج میچل بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے مصر پہنچ گئے ہیں۔

باراک اوباما نے کہا کہ انہوں نے جارج میچل کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں لوگوں کی بات سننے پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ ماضی میں امریکہ کا اکثر رویہ یہ رہا ہے کہ وہ ’پہلے ہی ہدایات دینا شروع کردیتا ہے۔‘

اپنے دورے میں میچل مصر کے علاوہ اسرائیل، غرب اردن اور سعودی عرب بھی جائیں گے۔

مصر میں وہ صدر حسنی مبارک سے ملکر حماس اور اسرائیل کے درمیان فائربندی کو مستحکم بنانے اور قیام امن کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر غور کریں گے۔

مصر اس نتازعہ میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس نے حماس اور فتح کےدرمیان بھی صلح کرانے کی کوشش کی ہے۔

اپنے انٹرویو میں صدر نے کہا کہ ان کے مشرق وسطی کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اسی لیے مسٹر میچل کو بھیجا گیا ہے تاکہ وہ تمام اہم فریقوں سے بات کر سکیں۔

’اس کے بعد ہی ہم اپنی حکمت عملی تیار کریں گے۔‘

اگرچہ انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کو کچھ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور یہ کہ ان کی حکومت اسرائیل پر یہ فیصلے کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گی۔

’ہم اسرائیلیوں کو یا فلسطینیوں کو یہ تو نہیں بتا سکتے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہوگا لیکن انہیں کچھ تلخ فیصلے کرنے ہوں گے۔ لیکن میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ دونوں کو اس بات کا احساس ہو کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں وہ ان کے عوام کو خوشحالی اور سکیورٹی کی طرف نہیں لے جاسکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ ایسے اسرائیلی بھی ہیں جو قیام امن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور اگر دوسرے فریق کی طرف سے بھی سنجیدگی ہو تو وہ قربانیاں دینے کو بھی تیار ہیں۔‘

صدر باراک اوباما نے اگرچہ کسی نطام الاوقات کا تعین نہیں کیا لیکن اس یقین کا اظہار کیا کہ قیام امن کی راہ میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔

ایران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران اگر اپنے رویہ میں نرمی پیدا کرے تو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں۔

رائفل نہیں کانپی
’اسرائیلی فوجی کی رائفل کا نشانہ تین بچیاں‘
’یہ پل ٹوٹ رہا ہے‘
میری بیٹیوں کا کیا قصور تھا؟ غزہ کا غمزدہ ڈاکٹر
غزہ، کب کیا ہوا
فوجی کارروائی کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات
 غزہاسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
اسی بارے میں
بان کی مون غزہ کے دورے پر
20 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد