’امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔ صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے باقاعدہ ٹی وی انٹرویو میں صدر اوباما نے دبئی سے نشر ہونے والے العربیہ ٹی وی سے کہا کہ امریکہ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے اس نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہ بہترین نہیں تھی۔ اسی دوران باراک اوباما کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی جارج میچل بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے مصر پہنچ گئے ہیں۔ باراک اوباما نے کہا کہ انہوں نے جارج میچل کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں لوگوں کی بات سننے پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ ماضی میں امریکہ کا اکثر رویہ یہ رہا ہے کہ وہ ’پہلے ہی ہدایات دینا شروع کردیتا ہے۔‘ اپنے دورے میں میچل مصر کے علاوہ اسرائیل، غرب اردن اور سعودی عرب بھی جائیں گے۔ مصر میں وہ صدر حسنی مبارک سے ملکر حماس اور اسرائیل کے درمیان فائربندی کو مستحکم بنانے اور قیام امن کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر غور کریں گے۔ مصر اس نتازعہ میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس نے حماس اور فتح کےدرمیان بھی صلح کرانے کی کوشش کی ہے۔ اپنے انٹرویو میں صدر نے کہا کہ ان کے مشرق وسطی کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اسی لیے مسٹر میچل کو بھیجا گیا ہے تاکہ وہ تمام اہم فریقوں سے بات کر سکیں۔ ’اس کے بعد ہی ہم اپنی حکمت عملی تیار کریں گے۔‘ اگرچہ انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کو کچھ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور یہ کہ ان کی حکومت اسرائیل پر یہ فیصلے کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گی۔ ’ہم اسرائیلیوں کو یا فلسطینیوں کو یہ تو نہیں بتا سکتے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہوگا لیکن انہیں کچھ تلخ فیصلے کرنے ہوں گے۔ لیکن میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ دونوں کو اس بات کا احساس ہو کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں وہ ان کے عوام کو خوشحالی اور سکیورٹی کی طرف نہیں لے جاسکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ ایسے اسرائیلی بھی ہیں جو قیام امن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور اگر دوسرے فریق کی طرف سے بھی سنجیدگی ہو تو وہ قربانیاں دینے کو بھی تیار ہیں۔‘ صدر باراک اوباما نے اگرچہ کسی نطام الاوقات کا تعین نہیں کیا لیکن اس یقین کا اظہار کیا کہ قیام امن کی راہ میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ایران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران اگر اپنے رویہ میں نرمی پیدا کرے تو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں ’مغرب حماس سے مذاکرات کرے‘22 January, 2009 | آس پاس فاسفورس، اسرائیل تفتیش کرے گا21 January, 2009 | آس پاس بان کی مون غزہ کے دورے پر20 January, 2009 | آس پاس غزہ میں پچاس ہزار سے زیادہ بےگھر19 January, 2009 | آس پاس غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی18 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل کی فائربندی کا اعلان جلد‘ 17 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||