’اسرائیلی فوجی کا نشانہ تین بچیاں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی چھان بین کرے گی کہ اس کے فوجیوں نے غزہ میں دو فلسطینی بچیوں کو گولیاں مار کر ہلاک اور تیسری کو شدید زحمی کر دیا حالانکہ بچیوں کی دادی اس دوران سفید جھنڈا لہراتی رہیں۔ ان تینوں بچیوں کی عمریں آٹھ سال سے کم تھیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کرسچئن فریزر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایک ہفتہ پہلے سما عبد ربہ کو مصر کے ہسپتال العریش میں جاکر دیکھا تھا کہ چارسال کی اس بچی کو غزہ سے بیلجئم کے ہسپتال میں خصوصی علاج کے لۓ بھیجا جارہا تھا۔ سما کے چچا نے جو باتیں بتائیں وہ خود بہت دردناک تھیں‘۔ نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں لکھا کہ ’اب یہاں غزہ پہنچ کر ہم نے اس بچی کے باپ کی تلاش شروع کی۔ ‘ خالد عبد ربہ اپنے مکان کے ملبے کے پاس کھڑے ہوۓ ملے۔ یہ گھر جبلیہ کے نواح میں ہے جہاں سب کچھ مکمل طور پر تباہ کیا جاچکا ہے۔ کوئی ایک مکان بھی ثابت اپنی جگہ کھڑا ہوا نہیں ہے۔ خالد نے کوئی دس میٹر دور اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ ٹینک اس جگہ تھے۔’ہم لوگوں سے کہا گیا کہ گھروں سے باہر نکل آئیں۔ پہلے عورتیں اور ان کے ساتھ میری تینوں بیٹیاں چار سالہ سما، سات سالہ صاد اور دوسال کی عمل باہر نکلیں۔‘
’بچیوں کی دادی مکان کے باہر ہاتھ میں ایک سفید جھنڈی لیۓ ہوۓ کھڑی تھیں۔ خالد نے کہا کہ ان کے سامنے ٹینک سےایک فوجی نے سر باہر نکالا اور ایک ایم 16 رائفل تان کے تینوں بچیوں کو گولی مار دی۔‘ کرسچئن فریزر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس واقعے کی تصدیق اس گھرانے کے تین مختلف افراد سے الگ الگ کرائی ہے اور تینوں بیانوں سے اُس احوال کی تصدیق ہو جاتی ہے جو ایک ہفتے پہلے ہم نے العریش میں سنا تھا۔‘ خالد کی ماں یعنی بچیوں کی دادی کا کہنا ہے کہ خون میں لت پت یہ بچیاں ڈھائی گھنٹے تک اسی جگہ پڑی رہیں حتیٰ کہ فلسطینیوں نے آکر انہیں اٹھایا۔ اس وقت تک صاد اور عمل مر چکی تھیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس گھرانے کے بیانات اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان اویتل لائبووچ کے سامنے پیش کۓ۔ جواب میں انہوں نے کہا ’میں آپ کو بتاتی ہوں کہ جبلیہ کے علاقے میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان کئی جگہ فائرنگ کے تبادلے ہوۓ تھے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہاں کئی شہری ٹھکانوں کو حماس والے فوجی مصرف میں لارہے تھے۔‘ بی بی سی نے اسرائیلی فوج کو اس واقعے کا وقت، تاریخ اور نقشے پر مقام کی نشان دہی کردی ہے۔ عینی شاہدوں کے بیانات بھی درکار ہوں تو پیش کۓ جاسکتے ہیں۔ خاتون ترجمان نے کہا کہ ہم تفتیش کریں گے۔ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||