BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2009, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عینی شاہد:عزہ میں بی بی سی نامہ نگار
رفاع
بی بی سی کے کرسچین فریزر رفاع میں
بی بی سی کے کرسچین فریزر اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں اپنے طور پرداخل ہونے والے پہلے برطانوی صحافی ہیں۔اسرائیل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ غیر ملکی صحافیوں کو فوج کی نگرانی میں ہی غزہ میں رسائی دی جا سکتی ہے۔

کرسچین فریزر مصر سے جنوبی غزہ میں داخل ہوئے اور رفاع سے انہوں نے یہ رپورٹ بھیجی ہے۔

رفاع میں داخل ہونے کے لیے ہم نے انیس دن انتظار کیا۔

تین ہفتوں تک ہم سرحد پار سے آتے زخمیوں کو دیکھتے رہے اور غزہ میں ہونے والے زوردار دھماکوں کی گونج سنتے رہے۔ آخر کار اب ہمیں آزادانہ طور پر اندر جا کر رپورٹنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

اس لڑائی میں رفاع پر شدید بمباری کی گئی ہے اسرائیل نے فصیل کے نیچے جانے والی ان سرنگوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے غزہ کے لوگ ضروری اشیاء سمگل کرتے تھے۔ ان سرنگوں کے ارد گرد رہنے والے تقریباً چالیس ہزار فلسطینی اب بے گھر ہیں جن میں سے پانچ ہزار اقوام متحدہ کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

ان لوگوں میں بہت سے بچے ہیں ان کیمپوں میں رہنے والے مجھے دیکھ کر خوش ہوئے وہ باہر کی دنیا کے کسی بھی انسان کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ایک کلاس روم میں چار گدوں پر پچیس لوگ سو رہے تھے اور رات کے کھانے میں انہیں بند گوبھی دی جانی تھی۔

ہماری ملاقات محمود نام کے ایک شخص سے ہوئی جس کی گود میں اس کا سات ماہ کا بچہ محمد تھا۔یہ لوگ شبورہ کیمپ سے تھے۔ دس دن پہلے محمود نے اپنے گھر کے ملبے سے اپنے سات ماہ کے بچے کو بمشکل صحیح سلامت نکالا تھا۔جو کہ ایک معجزہ تھا اب وہ اپنے بیٹے کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگا کر رکھتا ہے۔

 ’اب میں ڈھائی پیکٹ روز پیتا ہوں کیونکہ میں نروس ہوں مجھے ہر وقت اپنے بچوں اور گھر والوں کی فکر رہتی ہے
احمد

محمود نے بتایا کہ ’میں رات میں بچوں کو کہانی سناتا ہوں اور انہیں دھماکوں کے خوف سے بچانے کے لیے انہیں اپنے بالکل نزدیک رکھتا ہوں اور انہیں یقین دلاتا رہتا ہوں کہ بمباری ختم ہو گئی اور مرنے والے نہیں ۔‘

غزہ میں ہر طرف اس طرح کے والدین ہیں جو اپنے بچوں کو اسی طرح دلاسہ دے رہے ہیں۔

ہمارے میزبان احمد دوان نے بتایا کہ جب بھی ان کے گھر کے ارد گرد کوئی بم گرتا ہے وہ اپنی تین سال کی بچی کے سامنے ناچنا شروع کر دیتے ہیں اب اس کی بچی کو لگتا ہے کہ یہ کوئی کھیل ہے۔

لیکن یہ کوئی ہنسنے والی بات نہیں ہے لوگوں پر زبردست نفسیاتی دباؤ ہے اور ان کے چہروں پر صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی طیارے مسلسل گھروں کے اوپر پرواز کرتے رہتے ہیں کوئی نہیں جانتا کہ اگلا بم کہاں گرے گا ایک لمحے کا بھی سکون نہیں ہے۔فضا میں اسرائیلی پروازوں کے شور سے بات تک کرنا محال ہے۔

علاقے میں بے شمار تباہ شدہ عمارتیں ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں حیرانی کی بات نہیں ہے۔جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں اس کی تمام کھڑکیوں کو کھول کر رکھا گیا ہے تاکہ کسی دھماکے کی صورت میں شیشے ٹوٹنے سے زیادہ نقصان نہ ہو۔

رفاع
رفاع کی عمارتیں اس کی تباہی کی گواہی دیتی ہیں

ان حملوں سے قبل احمد دن میں بیس سیگریٹ پیا کرتا تھااس کا کہنا ہے کہ ’اب میں ڈھائی پیکٹ روز پیتا ہوں کیونکہ میں نروس ہوں مجھے ہر وقت اپنے بچوں اور گھر والوں کی فکر رہتی ہے‘۔

احمد کا کہنا ہے کہ ’میں دوسری مرتبہ پناہ گزین بنا ہوں پہلے 1948 میں میرے والد نے یہودیوں کے ہاتھوں اپنا گھرگنوایا تھااور اب ہم پھر بے گھر ہوگئے۔میرا گھر ابھی بھی موجود ہے لیکن پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔

رفاع کے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہاں کی سرنگیں ان کی روز مرہ کی زندگی کے لیے بہت اہم تھیں۔اب یہ سرنگیں تباہ ہو چکی ہیں اور لوگوں کو اندیشہ ہے کہ ضروری اشیاء کی قلت مزید بڑھ جائے گی۔

آٹا ، چینی، دال اور چاولوں کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور غزہ میں فلسطینی کرنسی بھی نہیں ہے صرف ڈالر ہی چلتا ہے۔سرکاری ملازمین کو صرف پچاس فیصد تنخواہ ہی مل رہی تھی کیونکہ غزہ میں کرنسی کی کمی ہے۔

احمد کا کہنا ہے کہ ’میں بینک سے رقم نہیں نکال سکتا میرا بھائیمصر سے کسی آنے جانے والے کے ہاتھ ہمارے لیے رقم بھیجتا ہے۔ہم اٹھارہ ماہ سے محاصرے میں ہیں اور ہم اسرائیلیوں پر بھروسہ نہیں کرتے ہم ایسی بنیادی اشیاءسے بھی محروم ہیں مغرب جن کی قدر تک نہیں کرتا ہمارے مویشیوں تک کے کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے‘۔

مختصر یہ کہ غزہ اور رفاع کی معیشت پوری طرح بکھر چکی ہے بالکل اس کے شہریوں کی طرح۔

شہریوں پر فائرنگ
’نہتے فلسطینی اسرائیلی گولیوں کا نشانہ‘
اوسلو سے غزہ تک
پندرہ برس سے جاری امن کی کوشش ناکام کیوں؟
جائز یا ناجائز؟
اسرائیلی اس جنگ کو بقا کی جنگ کہتے ہیں
غزہ احتجاجغزہ آپریشن، تصاویر
غزہ: آپریشن کا اٹھارواں دن، تصاویر
زخمی بچیغزہ پر غضب
فوجی کارروائی، مظاہرے اور غزہ کے مظلوم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد