’مغرب حماس سے مذاکرات کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کے سیاسی ونگ کے رہنما خالد مشعل کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ مغربی ممالک حماس پر لگائی گئی پابندی اٹھائے۔ دمشق سے عرب سیٹلائٹ ٹی وی چینل پر جلا وطن حماس کے رہنما خالد مشعل نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔‘ انہوں نے کہا ’میں یورپی ممالک سے کہتا ہوں ۔۔۔ حماس کو ختم کرنے کے لیے تین سال کی کوششیں کافی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کیئے جائیں کیونکہ حماس نے یہ حق اپنی جدوجہد سے حاصل کیا ہے۔ حماس اب ایک قانونی سیاسی طاقت ہے۔‘ واضح رہے کہ مشرق وسطٰی میں امن کے لیے کوشش کرنے والے یورپی یونین، امریکہ، اقوام متحدہ اور روس کا کہنا ہے کہ حماس سے اس وقت تک بات چیت نہیں ہو گی جب تک حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، شدت پسندی بند نہیں کرتا اور پی ایل او کی تسلیم شدہ عبوری امن معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا۔ خالد مشعل نے کہا کہ حماس نے اسرائیل کی فوجی سبقت کے باوجود اس کے حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ’یہ پہلی جنگ ہم نے جیتی ہے۔ پہلی اصل اور حقیقی جنگ۔ اور یہی وجہ ہے یہ جنگ یہودیوں کے خلاف جدوجہد میں اہم موڑ تھا۔‘ ’لیکن ابھی بھی دو مزید معرکے باقی ہیں۔ ایک تو محاسرہ ختم کرنا ہے اور دوسرا سرحدی کراسنگ کھلوانی ہیں خصوصاً رفاح کی سرحدی چوکی۔‘ یاد رہے کہ جون دو ہزار سات سے جب غزہ پر حماس کی حکومت قائم ہوئی تھی جب سے اسرائیل نے غزہ کا محاسرہ کیا ہوا ہے۔ اسرائیل نے امدادی اور تعمیری سامان بھی غزہ آنے نہیں دیا۔ خالد مشعل نے کہا کہ فلسطین کو آزاد کرانا اب خواب نہیں رہا بلکہ یہ ایک حقیقت بن گئی ہے اور خدا مشال نے چاہا تو ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔ | اسی بارے میں غزہ: اسرائیلی فوج کا انخلا مکمل21 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیلی فوجی کا نشانہ تین بچیاں‘22 January, 2009 | آس پاس بان کی مون غزہ کے دورے پر20 January, 2009 | آس پاس جنگ بندی کے بعد امداد کا انتظار19 January, 2009 | آس پاس حماس: ایک ہفتے کی فائربندی 18 January, 2009 | آس پاس حماس کامیابی کی دعویدار18 January, 2009 | آس پاس غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی18 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||