بان کی مون غزہ کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اقوام متحدہ کے احاطے کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ اس تباہی کو دیکھ کر ششدر رہے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا کہ اس احاطے کو نشانہ بنانے والے فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ بان کی مون غزہ میں اقوام متحدہ کے احاطے کی عمارت کے مبلے کے قریب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ عمارت کے ملبے سے اس وقت بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غزہ میں تباہی اور بربادی کو دیکھ کر انتہائی رنجیدہ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں انہوں نے تباہی اور بربادی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری کو طاقت کا بےجا استعمال قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل غزہ کے لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ آئے ہیں۔ غزہ پر تینوں ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی یلغار سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور فلسطینی حکام کا اندازہ ہے کہ اس کی تعمیر نو پر ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے وقت تک چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں جاری تھیں اور اسرائیلی بحریہ غزہ پر گولے داغ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق غزہ سے بھی اسرائیل پر ماٹر گولے پھینکے گئے۔ غرب اردن میں ایک اسرائیلی شہری کو اس وقت گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا جب وہ ایک یہودی بستی کے قریب سے گزر رہا تھا۔ ایک غیر معروف فلسطینی گروپ البشیر آرمی نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ تاہم اسرائیلی فوجوں کا انخلاء جاری ہے۔ اسرائیل میں سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل باراک اوباما کے حلف اٹھانے سے قبل غزہ سے اپنی تمام فوجی نکالنا چاہتا ہے۔ غزہ میں موجودہ تنازعے کے شروع ہونے کے بعد بان کی مون پہلے عالمی راہنما ہیں جو اس تباہ شدہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ غزہ میں ایرز کی کراسنگ سے داخل ہوئے اور غزہ شہر تک سڑک کے ذریعے پہنچے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بان کی مون کا دورہ غزہ میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے عملے کے لیے انتہائی حوصلہ بخش ہو گا۔ ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ کئی جگہوں پر حماس نے احتجاج بھی کیا لیکن مجموعی طور پر غزہ میں حالات پرامن رہے۔ بان کی مون غزہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسرائیل کے شہر شدروت جائیں گے جو کہ حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کی زد میں رہا۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے حکام نے کہا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے لاکھوں ڈالر کی امداد درکار ہو گی۔ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||