BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2009, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بان کی مون غزہ کے دورے پر
غزہ تباہی کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سکریپ کا کاروبار منافع بخش ہوگا: نامہ نگار

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اقوام متحدہ کے احاطے کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ اس تباہی کو دیکھ کر ششدر رہے گئے ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا کہ اس احاطے کو نشانہ بنانے والے فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔

بان کی مون غزہ میں اقوام متحدہ کے احاطے کی عمارت کے مبلے کے قریب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ عمارت کے ملبے سے اس وقت بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ غزہ میں تباہی اور بربادی کو دیکھ کر انتہائی رنجیدہ ہوئے ہیں۔

غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا جاری ہے

انہوں نے کہا کہ غزہ میں انہوں نے تباہی اور بربادی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری کو طاقت کا بےجا استعمال قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل غزہ کے لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ آئے ہیں۔

غزہ پر تینوں ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی یلغار سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور فلسطینی حکام کا اندازہ ہے کہ اس کی تعمیر نو پر ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے وقت تک چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں جاری تھیں اور اسرائیلی بحریہ غزہ پر گولے داغ رہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق غزہ سے بھی اسرائیل پر ماٹر گولے پھینکے گئے۔

غرب اردن میں ایک اسرائیلی شہری کو اس وقت گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا جب وہ ایک یہودی بستی کے قریب سے گزر رہا تھا۔

ایک غیر معروف فلسطینی گروپ البشیر آرمی نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

تاہم اسرائیلی فوجوں کا انخلاء جاری ہے۔ اسرائیل میں سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل باراک اوباما کے حلف اٹھانے سے قبل غزہ سے اپنی تمام فوجی نکالنا چاہتا ہے۔

غزہ میں موجودہ تنازعے کے شروع ہونے کے بعد بان کی مون پہلے عالمی راہنما ہیں جو اس تباہ شدہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ غزہ میں ایرز کی کراسنگ سے داخل ہوئے اور غزہ شہر تک سڑک کے ذریعے پہنچے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بان کی مون کا دورہ غزہ میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے عملے کے لیے انتہائی حوصلہ بخش ہو گا۔

ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ کئی جگہوں پر حماس نے احتجاج بھی کیا لیکن مجموعی طور پر غزہ میں حالات پرامن رہے۔

بان کی مون غزہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسرائیل کے شہر شدروت جائیں گے جو کہ حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کی زد میں رہا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے حکام نے کہا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے لاکھوں ڈالر کی امداد درکار ہو گی۔

گولہ لگنے کے بعد۔۔۔
افرا تفری کے عالم میں مریضوں کو نکالا: ڈاکٹر
رفاعغزہ:عینی شاہد
غزہ کی کہانی بی بی سی نامہ نگار کی زبانی
جائز یا ناجائز؟
اسرائیلی اس جنگ کو بقا کی جنگ کہتے ہیں
شہریوں پر فائرنگ
’نہتے فلسطینی اسرائیلی گولیوں کا نشانہ‘
اوسلو سے غزہ تک
پندرہ برس سے جاری امن کی کوشش ناکام کیوں؟
غزہ احتجاجغزہ آپریشن، تصاویر
غزہ: آپریشن کا اٹھارواں دن، تصاویر
زخمی بچیغزہ پر غضب
فوجی کارروائی، مظاہرے اور غزہ کے مظلوم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد