غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ فائربندی کے اعلان کے بعد اتوار کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیلی شہر سیدروت پر پانچ راکٹ داغے گئے ہیں جن کے جواب میں اسرائیلی فوج نے بھی کارروائی کی ہے۔ سنیچر کی شب اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ میں یکطرفہ فائر بندی کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فائربندی کے باوجود اسرائیلی افواج غزہ میں موجود رہیں گی۔ اولمرٹ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں اپنے اہداف پورے کرلیے ہیں اس لیے لڑائی ختم کی جاسکتی ہے۔ یہ اعلان اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ اسرائیل کی یکطرفہ فائربندی کے جواب میں حماس نے کہا تھا کہ جب تک ایک بھی اسرائیلی فوجی غزہ میں موجود ہے وہ حملے بند نہیں کرے گا۔ اتوار کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیلی شہر سیدروت پر پانچ راکٹ فائر کیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جواب میں اسرائیل نے بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے راکٹ داغے گئے تھے۔ وزیراعظم اولمرٹ نے بتایا کہ فائربندی پر ہر منٹ غور کیا جارہا ہے۔ فائربندی کا اعلان کرتے وقت وزیراعظم اولمرٹ نے ٹیلی ویژن پر براہ راست خطاب میں کہا کہ حماس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسرائیلی کارروائی ستائیس دسمبر کو شروع ہوئی تھی اور تب سے اب تک تقریباً بارہ سو فلسطینی اور تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
اپنے خطاب میں مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ فوجی کارروائی کے دوران حماس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، فوجی اعتبار سے بھی اور اس کے سرکاری بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی۔ اس کے علاوہ راکٹ بنانے کی فیکٹریاں اور درجنوں سرنگیں بھی تباہ کی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا: ’لیکن جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار حماس پر ہے۔‘ اولمرٹ نے کہا کہ فوج فی الحال غزہ میں رہے گی اور اگر حماس نے حملے بند کر دیے تو ہم اپنی سہولت کے مطابق فوج کو واپس بلا لیں گے۔ ’لیکن اگر راکٹوں سے حملے جاری رہے تو اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا۔‘ امریکہ نےکہا کہ وہ وہ چاہتا ہے کہ تمام فریق لڑائی فوراً بند کردیں۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ایک بھی اسرائیلی فوجی کی موجودگی براداشت نہیں ہوگی۔ ’اسرائیل اپنی فوج فوراً واپس بلائے، سرحدی چوکیاں کھولے اور اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے۔‘ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حماس ان مذاکرات میں حصہ لے رہی ہے جن کا مقصد ایک باہمی معاہدے تک پہنچنا ہے اور جس میں مصری صدر حسنی مبارک ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مستقل جنگ بندی کے مسئلہ پر شرم الشیخ میں اتوار کو ایک سربراہی کانفرنس بھی ہو رہی ہے جس میں مسٹر بان کیمون، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور کئی یورپی رہنما شرکت کریں گے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں بیت لاہیہ میں واقع ایک سکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہاں دو بچے ہلاک ہوگئے ہیں جن کی عمر پانچ اور سات سال تھی۔ اس سکول میں سینکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ سکول پر بمباری کی تحقیات کر رہا ہے۔ لیکن فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی امدادی ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں۔ یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان کرِس گنیس نے کہا: ’ایک تحقیقات کرنی ہوگی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کیا جنگی جرم ہوا ہے۔‘ یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ جون گنگ نے کہا: ’یہ ایک اور ناقابل یقین سانحہ ہے۔ ایسے بہت سے دوسرے سانحات کے بعد ہونے والا ایک اور سانحہ۔ مرنے والے دونوں بچے ہر طرح کے شک و شبہے سے بالاتر قطعاً معصوم تھے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اب تو سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ غزہ میں مرنے والے تمام معصوم اور بے قصور لوگوں کی ہلاکت کیا جنگی جرم نہیں۔ جنیوا کنونشن کے تحت اس بات کا جواب ملنا چاہیے۔ صرف ذرائع ابلاغ میں بحث نہیں، اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔‘ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایگال پامور نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت اس بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کی منتظر ہے۔ ترجمان نے کہا: ’ہمارے پاس صحیح اطلاعات نہیں ہیں کہ کب، کہاں، کیسے اور کس طرح (ٹینک) کے گولے لگے ہیں۔‘ تاہم ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے ’رتی بھر شواہد بھی نہیں‘ ہیں کہ جنگی جرائم کے الزامات ثابت کیے جاسکیں۔ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||