BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 January, 2009, 08:01 GMT 13:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی
 غزہ
اسرائیلی کارروائی میں بارہ سو فلسطینی ہلاک اور تقریباً پانچ ہزار زخمی ہوئے

اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ فائربندی کے اعلان کے بعد اتوار کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیلی شہر سیدروت پر پانچ راکٹ داغے گئے ہیں جن کے جواب میں اسرائیلی فوج نے بھی کارروائی کی ہے۔

سنیچر کی شب اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ میں یکطرفہ فائر بندی کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فائربندی کے باوجود اسرائیلی افواج غزہ میں موجود رہیں گی۔ اولمرٹ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں اپنے اہداف پورے کرلیے ہیں اس لیے لڑائی ختم کی جاسکتی ہے۔ یہ اعلان اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔

اسرائیل کی یکطرفہ فائربندی کے جواب میں حماس نے کہا تھا کہ جب تک ایک بھی اسرائیلی فوجی غزہ میں موجود ہے وہ حملے بند نہیں کرے گا۔ اتوار کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیلی شہر سیدروت پر پانچ راکٹ فائر کیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

جواب میں اسرائیل نے بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے راکٹ داغے گئے تھے۔ وزیراعظم اولمرٹ نے بتایا کہ فائربندی پر ہر منٹ غور کیا جارہا ہے۔

فائربندی کا اعلان کرتے وقت وزیراعظم اولمرٹ نے ٹیلی ویژن پر براہ راست خطاب میں کہا کہ حماس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسرائیلی کارروائی ستائیس دسمبر کو شروع ہوئی تھی اور تب سے اب تک تقریباً بارہ سو فلسطینی اور تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اگر راکٹ حملے نہ رکے تو پھر کارروائی کریں گے: اولمرٹ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فائر بندی کے اعلان پر اپنی راحت کا اظہار کیا ہے۔ ’غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی کا یہ پہلا قدم ہونا چاہیے، اور یہ واپسی جلد سے جلد مکمل ہونی چاہیے۔‘

اپنے خطاب میں مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ فوجی کارروائی کے دوران حماس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، فوجی اعتبار سے بھی اور اس کے سرکاری بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی۔ اس کے علاوہ راکٹ بنانے کی فیکٹریاں اور درجنوں سرنگیں بھی تباہ کی گئی ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا: ’لیکن جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار حماس پر ہے۔‘ اولمرٹ نے کہا کہ فوج فی الحال غزہ میں رہے گی اور اگر حماس نے حملے بند کر دیے تو ہم اپنی سہولت کے مطابق فوج کو واپس بلا لیں گے۔ ’لیکن اگر راکٹوں سے حملے جاری رہے تو اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا۔‘

امریکہ نےکہا کہ وہ وہ چاہتا ہے کہ تمام فریق لڑائی فوراً بند کردیں۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ایک بھی اسرائیلی فوجی کی موجودگی براداشت نہیں ہوگی۔ ’اسرائیل اپنی فوج فوراً واپس بلائے، سرحدی چوکیاں کھولے اور اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے۔‘

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حماس ان مذاکرات میں حصہ لے رہی ہے جن کا مقصد ایک باہمی معاہدے تک پہنچنا ہے اور جس میں مصری صدر حسنی مبارک ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مستقل جنگ بندی کے مسئلہ پر شرم الشیخ میں اتوار کو ایک سربراہی کانفرنس بھی ہو رہی ہے جس میں مسٹر بان کیمون، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور کئی یورپی رہنما شرکت کریں گے۔

 یہ ایک اور ناقابل یقین سانحہ ہے۔ ایسے بہت سے دوسرے سانحات کے بعد ہونے والا ایک اور سانحہ۔ مرنے والے دونوں بچے ہر طرح کے شک و شبہے سے بالاتر قطعاً معصوم تھے۔ اب تو سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ غزہ میں مرنے والے تمام معصوم اور بے قصور لوگوں کی ہلاکت کیا جنگی جرم نہیں۔ جنیوا کنونشن کے تحت اس بات کا جواب ملنا چاہیے۔ صرف ذرائع ابلاغ میں بحث نہیں، اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔
ادھر اقوام متحدہ نے اپنے ایک سکول پر بمباری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں بیت لاہیہ میں واقع ایک سکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہاں دو بچے ہلاک ہوگئے ہیں جن کی عمر پانچ اور سات سال تھی۔ اس سکول میں سینکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ سکول پر بمباری کی تحقیات کر رہا ہے۔ لیکن فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی امدادی ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں۔

یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان کرِس گنیس نے کہا: ’ایک تحقیقات کرنی ہوگی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کیا جنگی جرم ہوا ہے۔‘

یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ جون گنگ نے کہا: ’یہ ایک اور ناقابل یقین سانحہ ہے۔ ایسے بہت سے دوسرے سانحات کے بعد ہونے والا ایک اور سانحہ۔ مرنے والے دونوں بچے ہر طرح کے شک و شبہے سے بالاتر قطعاً معصوم تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اب تو سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ غزہ میں مرنے والے تمام معصوم اور بے قصور لوگوں کی ہلاکت کیا جنگی جرم نہیں۔ جنیوا کنونشن کے تحت اس بات کا جواب ملنا چاہیے۔ صرف ذرائع ابلاغ میں بحث نہیں، اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔‘

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایگال پامور نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت اس بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کی منتظر ہے۔ ترجمان نے کہا: ’ہمارے پاس صحیح اطلاعات نہیں ہیں کہ کب، کہاں، کیسے اور کس طرح (ٹینک) کے گولے لگے ہیں۔‘ تاہم ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے ’رتی بھر شواہد بھی نہیں‘ ہیں کہ جنگی جرائم کے الزامات ثابت کیے جاسکیں۔

گولہ لگنے کے بعد۔۔۔
افرا تفری کے عالم میں مریضوں کو نکالا: ڈاکٹر
رفاعغزہ:عینی شاہد
غزہ کی کہانی بی بی سی نامہ نگار کی زبانی
جائز یا ناجائز؟
اسرائیلی اس جنگ کو بقا کی جنگ کہتے ہیں
شہریوں پر فائرنگ
’نہتے فلسطینی اسرائیلی گولیوں کا نشانہ‘
اوسلو سے غزہ تک
پندرہ برس سے جاری امن کی کوشش ناکام کیوں؟
غزہ احتجاجغزہ آپریشن، تصاویر
غزہ: آپریشن کا اٹھارواں دن، تصاویر
زخمی بچیغزہ پر غضب
فوجی کارروائی، مظاہرے اور غزہ کے مظلوم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد