| | غزہ کے شہریوں کی بڑی تعداد اپنے گھروں کو واپس آ رہی ہے |
حماس اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد غزہ میں ہونے والی تباہی کی اصل تصویر سامنے آنا شروع ہوگئی ہے۔ اسرائیل نے سنیچر کو غزہ میں مقاصد کے حصول میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے جنگ بندی کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد حماس نے بھی فائر بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی کارروائی سے اس کی راکٹ حملے کرنے کی صلاحیت متاثر نہیں ہو سکی ہے۔ ستائیس دسمبر سے سترہ جنوری تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں تیرہ سو فلسطینی اور تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے مزید پچانوے فلسطینیوں کی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکار جان گنگ کے مطابق غزہ میں اس لڑائی کے آغاز سے ہی قریباً پانچ لاکھ افراد پینے کے پانی سے محروم تھے جبکہ ایک بڑا علاقہ بجلی سے بھی محروم ہے۔ حکام کے مطابق اس جنگ میں چار ہزار گھر تباہ جبکہ ہزاروں افراد بےگھر ہوئے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کے ڈائریکٹر آپریشنز جان گنگ کا کہنا ہے کہ’ ہمیں ایک بڑے امدادی آپریشن کا سامنا ہے۔ لیکن کسی پیمانے پر بھی تعمیرِ نو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سرحدی راستے نہ کھول دیے جائیں۔  | | | غزہ میں بچے ایک ایسے اسرائیلی بم کے قریب کھڑے ہیں جو پھٹ نہ سکا |
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھنی بیل کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کو خوراک، ادویات اور ایندھن کی کمی کا سامنا ہے۔ تاہم اسرائیلی ترجمان مارک ریگیو کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرحد کو امداد کی فراہمی کے لیے پیر کی شام تک کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ’ بڑے پیمانے پر امداد غزہ کی پٹی میں پہنچےگی جن میں ادویات، خوراک اور ایندھن بھی شامل ہیں۔ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ کویت میں عرب لیگ کے اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے دو ارب ڈالر کے امدادی فنڈ کی تجویز پر بات ہوگی۔ سعودی عرب نے اس فنڈ کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے فلسطینی علاقوں میں ایک ساتھ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات اور قومی اتفاقِ رائے سے حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے مطابق وہ غزہ میں اپنے سکول بھی دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم اس وقت ان سکولوں کی عمارتوں میں وہ پچاس ہزار فلسطینی پناہ گزین ہیں جن کے گھر اسرائیلی حملوں میں تباہ ہوگئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کے جنوبی سرحدی علاقے پر کس کا کنٹرول ہو گا اور یہ کہ حماس میں اب بھی کتنی طاقت باقی ہے۔ یاد رہے کہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ’ہم غزہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے نہیں نکلے تھے، ہم وہاں نہیں رہنا چاہتے، ہم جتنا جلدی ممکن ہو واپس آنا چاہتے ہیں‘۔ بی بی سی کے کرسچیئن فریزر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی واپسی شروع ہو گئی ہے جبکہ غزہ کی جانب لوٹنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہی ہے۔ |