غزہ والوں کی کِرچی کِرچی زندگیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بعد دن بھر غزہ کے ہزاروں کے باسی یہ معلوم کرنے کے لیے اپنے محلوں کا رخ کر رہے ہیں کہ اسرائیلی بمباری میں ان کے گھروں کا کیا ہوا۔ لڑائی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا اس علاقے میں ٹوٹی پھوٹی عمارتیں ہیں اور گلیاں جلی ہوئی گاڑیوں سے اٹی پڑی ہیں۔ میں نے کچھ لوگوں سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ گھروں کی بات تو چھوڑیں انہیں اس تباہ شدہ علاقے میں اپنے گھروں کا راستہ تک نہیں ملا اور کئی لوگ تو اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کرنے والے سکولوں کو واپس لوٹ گئے جہاں انہوں نے لڑائی کے دوران پناہ لی تھی۔ لیکن غزہ کے کچھ رہائشی تو گھر واپس جانے کی کوشش کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہسپتال کے بستر پر ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ لیٹی ہوئی پندرہ سالہ عامرہ الغریم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ عامرہ کو ان کے گھر سے زخمی حالت میں نکالا گیا تھا جہاں وہ اسرائیلی حملے میں اپنے والد کی ہلاکت کے بعد چار دن تک مدد کے انتظار میں پڑی رہی تھیں۔ عامرہ کا خیال ہے کہ ان کے بھائی اور بہن بھی پناہ کی تلاش میں بھاگتے ہوئے اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں۔ خود ان کے باقی اہلِ خانہ نے انہیں مردہ تصور کر لیا تھا اور یہی نہیں بلکہ ایک لاش کے چند ٹکڑوں کو عامرہ کی باقیات سمجھ کر دفن بھی کر دیا تھا۔ عامرہ نے سبکیاں بھرتے اور روتے ہوئے ان لمحات کی کہانی بیان کی جب وہ اپنے والد کی ہلاکت کے بعد مدد کے انتظار میں تھیں۔ عامرہ کے مطابق ’میں نے باہر دیکھا، مجھے اپنے والد کی تباہ شدہ کار نظر آئی اور ان کی ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں جبکہ میرے آس پاس کا فرش میری ٹانگ سے نکلنے والے خون سے تر تھا‘۔ انہیں یہ تو یاد نہیں کہ انہوں نے تین دن انتظار کیا یا چار دن لیکن انہیں اس وقت کی تفصیلات یاد ہیں۔’ مجھے ایک گلاس ملا۔ میں نے اس میں نل سے پانی بھرنا چاہا لیکن وہ نیچے گر گیا، اس پر خون لگ گیا اور وہ قابلِ استعمال نہ رہا۔میں نے کچھ انتظار کیا اور پھر براہِ راست نل سے پانی پی لیا‘۔ عامرہ کے مطابق وہ گھر سے باہر جانا چاہتی تھیں لیکن دروازے میں ان کے والد گرے ہوئے تھے اور’میں نہیں چاہتی تھی کہ باہر جانے کی کوشش میں اپنے والد کے جسم پر پیر رکھوں‘۔ عامرہ کے مطابق دو راتیں انہوں نےگلی میں سو کر گزاریں جس کے بعد اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ گھسٹتے ہوئے پانچ سو میٹر دور انہوں نے ایک اور گھر تلاش کر لیا۔ عامرہ کو تلاش کرنے والے امریکی چینل اے بی سی کے پروڈیوسر سمیع زیارہ کے مطابق انہیں ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر عامرہ کو طبی امداد نہ ملتی تو وہ چند گھنٹے کی ہی مہمان تھیں۔ سمیع کے مطابق’عامرہ اتنی دہشت زدہ ہیں کہ انہیں ساری عمر علاج کی ضرورت ہو گی۔ اگر وہ اس کے لیے سب کچھ بھی کرتے ہیں تب بھی وہ ویسی نہیں بن سکے گی جیسی وہ اس واقعہ سے پہلے تھیں‘۔ عامرہ کی ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کا منظر بیان کرتے ہوئے سمیع کا کہنا ہے کہ ’میں بیان نہیں کر سکتا کہ وہ کیسا منظر تھا جب ماں اپنی بیٹی سے ملنے آئی۔ انہوں نے اپنے شوہر، بیٹے اور بیٹی کو کھو دیا تھا اور جب انہیں عامرہ ملی تو وہ تو جیسے کوما میں ہی چلی گئیں‘۔ غزہ کے شفا ہسپتال میں عامرہ کے ساتھ ہی چھ بچوں کے والد فارد البائر بھی داخل ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا ان کی جلی ہوئی ٹانگ کاٹی جائے گی یا نہیں۔ فارد کا کہنا ہے کہ ’مجھے اللہ پر یقین ہے مگر میرے بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا‘۔ اسرائیلی حملوں کے دوران فارد پہلے غزہ شہر کے مشرقی علاقے شجالیہ میں واقع اپنے گھر سے شہر کے جنوب میں واقع اپنے والدین کے گھر چلے گئے۔ جب زمینی حملے کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو فارد غزہ شہر میں اپنے رشتہ داروں کے گھر منتقل ہوگئے۔ جب وہاں بھی آس پاس کے گھروں پر گولے گرنے لگے تو فارد اور ان کے اہلِ خانہ نے اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کے کمپاؤنڈ میں پناہ لینے کی کوشش کی۔فارد کے مطابق وہ کمپاؤنڈ کی عمارت کے اندر پہنچے ہی تھے کہ وہ اور ان کے چچا بمباری کا نشانہ بن گئے۔ فارد البائر کے مطابق ان میں اپنے گھر واپس جا کر وہاں ہونے والی تباہی دیکھنے کی ہمت نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ’ جب میں نے اپنا گھر چھوڑا تو وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ اب میں نہیں جانتا وہ کس حالت میں ہے لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ میرے تمام ہمسایوں کے گھر منہدم ہو چکے ہیں۔ میرے پاس ہسپتال سے نکل کر سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا کہ ہمیں کہیں خیمہ ہیں لگانا پڑے‘۔ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||