فاسفورس، اسرائیل تفتیش کرے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں سفید فاسفورس کے غیر قانونی استعمال کےالزامات کی تفتیش کرے گی۔ غزہ میں تین ہفتے کی فوجی کارروائی کےدوران انسانی حقوق کے اداروں نے کئی مرتبہ یہ الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیلی فوج ایسے علاقوں میں فاسفورس بموں کا استعمال کر رہی ہے جہاں عام شہری بھی ان کی زد میں آسکتے ہیں۔ ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ سفید فاسفورس کے غیر قانونی استعمال کے الزامات کی تفتیش کرے گی۔ ’غیر سرکاری اداروں کے الزامات اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے دعوؤں کے پیش نظر اور ابہام کی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے، ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔‘ لڑائی کےدوران ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ اس کے کارکنو نے نو اور دس جنوری کو غزہ شہر اور جبلیہ پناہ گزین کیمپ کے قریب سفید فاسفورس کے بموں کا استعمال دیکھا تھا۔ ادارے نے ثبوت کے طور پر ویڈیو فلمیں اور تصاویر بھی جاری کی تھیں۔ آتشگیر مادوں کے استعمال سے متعلق عالمی معاہدے کے تحت یہ مواد ایسے علاقوں میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جہاں شہری آبادی ہو۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے ایک ہیڈ کواٹر پر بھی فاسفورس بموں سے حملہ کیا گیا تھا جس سے امداد کا سامان جل کر راکھ ہوگیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں جو بھی ہتھیار استعمال کیے وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کیے لیکن اب تک اس نے یہ واضح کرنے سےانکار کیا ہے کہ یہ ہتھیار کون سے تھے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت سفید فاسفورس کو میدان جنگ میں دھوئیں کا غبار پیدا کرنے کے لیے تو استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن بم کے طور پر نہیں۔ سفید فاسفورس گوشت سے چپک کر اسے ہڈی تک جلا دیتا ہے اور اس کی زد میں آنے والے لوگ انتہائی تکلیفدہ موت مرتے ہیں۔ اس کے زخم بھی بہت مشکل سے بھرتے ہیں۔ اسے سونگھنا یا کھانا بھی مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||