انہوں نے میری بیٹیوں کو مار ڈالا۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فسلطینی ڈاکٹر عزالدین ابو لیش سے میری پہلی ملاقات آٹھ سال پہلے اس وقت ہوئی تھی جب میں نے ان کی غیر معمولی زندگی اور کام کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنائی تھی۔ وہ خواتین کے امراض اور بانجھ پن کے ماہر ہیں اور غزہ کی پٹی کے جبلیہ کیمپ میں رہتے ہیں۔ لیکن جنگ سے پہلے وہ اسرائیلی میں بھی بانجھ یہودی عورتوں کا علاج کرتے تھے۔ ان کا غزہ میں بھی ایک کلینک تھا جہاں وہ میڈکل کے طالب علموں کو پڑھاتے اور شدید بیمار فلسطینی مریضوں کو علاج کےلیے اسرائیل بھیجنے کا بندوبست کرتے۔ سرحد پار کرنے میں دشواری ہوتی، کبھی توہین بھی، لیکن ان کے ماتھے پرشکن نہ آتی۔ ایک مرتبہ ان کی ایک طالبہ اس بات پر بہت ناراض ہوئی کہ وہ بچے پیدا کرنے میں یہودی عورتوں کی مدد کرتے ہیں۔ ’اگر یہ بچے بڑے ہوکر فوجی بنتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو مارتے ہیں تو کیا ہوگا؟‘ لیکن ان نفرتوں اور دشواریوں کے باوجود ڈاکٹر عزالدین نے اپنا کام جاری رکھا۔ سن دو ہزار ایک میں جب میں نے فلم بنائی تھی تو ساروکا یونیورسٹی ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر گیڈ پوٹاشنک تھے۔ ڈاکٹر عزالدین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ’ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ایک خفیہ طلسمی پل ہیں۔ لیکن اب یہ پل ٹوٹنے کے قریب ہے۔‘ تب سے میں ڈاکٹر عزالدین سے رابطے میں رہی ہوں۔ ستمبر دو ہزار آٹھ میں وہ یورپی یونین کے لیے افریقہ میں کام شروع کرنے والے تھے لیکن اچانک پتہ چلا کہ ان کی اہلیہ نادیا کو بلڈ کینسر ہوگیا ہے۔ وہ واپس لوٹ آئے۔نادیا زیادہ دن زندہ نہ رہیں اور آٹھ بچوں کی ذمہ داری ان پر چھوڑ کر چل بسیں۔ ان کے بچوں کی عمریں تین سے بیس برس کے درمیان ہیں۔
غزہ کی جنگ کے درمیان میں نےان سے پھر بات کی۔ انہوں نےمجھے بتایا کہ گھر کی کھڑکیوں کے تمام شیشے ٹوٹ چکے ہیں، فائرنگ اور دھماکوں کی آواز گونج رہی ہے اور وہ اپنے بچوں کی سلامتی کے بارے میں بہت فکرمند ہیں۔ پھر جمعہ کے دوپہر، جنگ بندی کے اعلان سے ذرا قبل، وہ ہو گیا جس کا انہیں ڈر تھا۔ انہوں نے فون پر روتے ہوئے مجھے بتایا کہ’میری بیٹیاں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ میں اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو کندھے پر اٹھار کر ایک لمحہ پہلے ہی کمرے سے نکلا تھا ایک گولہ دیوار توڑتا ہوا کمرے میں آکر گرا۔ میں واپس کمرے میں بھاگا تو دیکھا کہ میری بیٹیوں کے اعضاء کمرے میں بکھرے پڑے تھے۔ ایک بیٹی کی لاش کرسی میں ہی تھی لیکن اس کی ٹانگیں غائب تھیں۔‘ ’مجھے بتائیے کہ ان کی کیا خطا تھی۔ میرے گھر پر گولہ داغنے کا حکم کس نے دیا۔‘ ’لوسی، تم مجھے جانتی ہو، تم میرے گھر آئی ہو، میرا ہسپتال دیکھا ہے، میرے اسرائیلی مریضوں سے ملی ہو۔‘ ’میں نے دونوں طرف کے لوگوں کو قریب لانے کی کتنی کوشش کی ہےاور دیکھو بدلے میں مجھے کیا ملا۔‘ گولے کی زد میں آنے والی بچیوں میں ان کی تین بیٹیاں اور ایک بھتیجی شامل تھی۔ ان کی عمریں تیرہ سے بیس سال کے درمیان تھیں۔ ’میری بڑی بیٹی بیسان اپنی مینجمنٹ کی ڈگری پوری کرنے والی تھی۔ مجھے اس پر ناز تھا۔‘ مجھے یاد ہے کہ بیسان ایک چلبلی سے لڑکی تھی جو انگریزی زبان پر اپنی مہارت دکھانےکا موقع نہیں جانے دیتی تھی۔ حالیہ فوجی کارروائی کےدوران ڈاکٹر عزالدین، جو عبرانی زبان کے بھی ماہر ہیں، تل ابیب کے ایک ٹی وی سٹیشن کو فوجی کارروائی کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے تھے۔
وہ اسرائیلیوں کو فلسطینیوں کے مصائب کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بتانا چاہتے تھے۔ اپنے گھر پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ٹی وی سٹیشن کو فون کرکے تفصیلات بتائیں۔ ٹی وی پریزینٹر شلومی ایلدار خود کافی پریشان نظر آئے جب ڈاکٹر عزالدین نے کہا کہ’ یا خدا، میری بیٹیاں، انہوں نے میری بیٹیوں کو مار ڈالا۔‘ مسٹر ایلدار کی کوششوں سے دو زخمی لڑکیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عزالدین کا انٹرویو سننے کے بعد ہزاروں لوگوں نے انہیں فون کیا ہے۔ ’میرے خیال میں اس انٹرویو سے اسرائیل میں لوگوں کی رائے بدلے گی۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے کچھ سامعین کو پہلی مرتبہ یہ احساس ہورہا ہے کہ فلسطینی کتنی بڑی قمیت ادا کر رہے ہیں۔‘ ڈاکٹر عزالدین کی سترہ سالہ بیٹی شادا کی آنکھ کا آپریشن ہوگیا ہے لیکن ان کی بھتیجی کی حالت اب بھی نازک ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعہ کی تفتیش کی جارہی ہے۔ فوج کا کہنا ہےکہ شاید ان کے گھر کے پاس سے کسی نے فائرنگ کی تھی۔ لیکن ڈاکٹر عزالدین کہتے ہیں کہ ’ تشدد کا راستہ کبھی درست نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس صرف محبت اور امید کا ہتھیار تھا۔‘ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||