BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سے بہتر تعلقات کا اشارہ
 علی لاریجانی
ایران جوہری پروگرام کے اپنے موقف پر قائم رہے گا: علی لاریجانی
ایران اور روس نے امریکہ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات کا اشارہ دیا ہے۔

ایران کے ایک اہم اہلکار کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی کے لیے خصوصی ایلچی بھیجنے کے اوباما کے فیصلے کو تہران ایک مثبت قدم سمجھتا ہے۔

جبکہ روس کے ایک وزیر کا کہنا تھا کہ اب جوہری عدم پھیلاؤ کی سمت آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے محتاط انداز میں ان بیانات کا خیر مقدم کیا ہے۔

میونخ میں سکیورٹی کی سالانہ کانفرنس کے پہلے دن خطاب کرتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی نے جارج مچل کو خصوصی ایلچی بنا کر مشرقِ وسطی بھیجنے کے اوباما کے فیصلے کی ستائش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ لوگوں کو بات سننے کے لیے بھیجیں گے حکم چلانے کے لیے نہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مثبت اشارے ہیں۔

تاہم علی لاریجانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقِ وسطی میں امن کا عمل اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک عالمی برادری حماس کو دہشت گرد تنظیم کہنا بند نہیں کر دیتی اور یہ کہ اسلامی گروپ کی حمایت کرنا ایران کے لیے ’باعثِ فخر‘ ہے۔

ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار علی لاریجانی نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران جوہری پروگرام کے اپنے موقف پر قائم رہے گا۔ انہوں نے ماضی میں جوہری عدم پھیلاؤ کی امریکہ کی’دوہری پالیسی‘ پر بھی واشنگٹن کو آڑے ہاتھوں لیا۔

روس کے نائب وزیرِ اعظم سرگئی ایوانوف نے اوباما انتظامیہ سے اپیل کی کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے اہم معاہدے کی تجدید میں مدد کرے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یورپ میں امریکی میزائل شیلڈ کی توسیع مسائل کا حل نہیں ہے۔

مسٹر ایوانوف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلحہ کو ختم کرنے سے متعلق معاہدے کی تجدید کی سمت پیش رفت کی جائے۔1991 میں اس معاہدے پر دستخط کے بعد روس اور امریکہ دونوں ہی کے جوہری اسلحہ خانوں میں بڑی کمی ہوئی تھی۔

اس معاہدے کی تجدید کا کام سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت میں روک دیا گیا تھا۔

جنوری میں امریکی وزارتِ خارجہ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ہے ہلیری کلنٹن نے اس معاہدے پر بات چیت کا وعدہ کیا تھا۔

مشرقِ وسطی کے خصوصی ایلچی نے حال ہی میں مصر، اسرائیل، غربِ اردن، اردن اور سعودی عرب کا دورہ مکمل کیا ہے۔

 غزہاسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
اسی بارے میں
بان کی مون غزہ کے دورے پر
20 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد