شیعہ گروپوں کی حمایت میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اور عراقی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے عراق میں شدت پسند شیعہ گروپوں کی حمایت کم کر دی ہیں۔ عراقی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی سرگرمیاں اس لیے کم کر دیں کیونکہ اس کو لگتا ہے کہ امریکہ اور عراق کے سکیورٹی معاہدے سے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایرانی حکومت عراقی شدت پسندوں کی مدد واعانت کی تردید کرتی رہی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل تھامس میٹز کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایرانی ساخت کے بموں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ’ایران میں شیعہ گروپوں کے حامیوں میں سے کسی نے تو یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب اس حمایت میں کمی کی جانی چاہئے۔ عراقی حکومت کے ترجمان علی دباغ نے واشنگٹن میں کہا ہے کہ شورش کے تئیں ایران کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی جانب سے اس طرح کی یقین دہانیاں بھی معاون ثابت ہوئی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کیا جانے والا سکیورٹی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔ 27 نومبر کو عراقی پارلیمان نے مستقبل میں ملک میں امریکی فوجی دستوں کی موجودگی کے معاہدے کو منظوری دی ہے۔اس معاہدے کے تحت امریکی افواج 2009 کے وسط تک عراقی سڑکوں سے ہٹا لی جائیں گی اور 2011 تک پوری طرح عراق چھوڑ دیں گی۔ | اسی بارے میں مالی:تاریخی دستاویزات کابچاؤ04 October, 2005 | آس پاس حجاز ریلوے کی تاریخ اور خزانے کی تلاش16 January, 2006 | آس پاس عراق: تاریخی نوادرات کی واپسی28 April, 2008 | آس پاس کتابیں جلانے والوں سے تاریخ کا انتقام 10 May, 2008 | آس پاس سمارا کے تاریخی مینار کو نقصان01 April, 2005 | آس پاس رائس لیبیا کے تاریخی دورے پر05 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||