BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2008, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیعہ گروپوں کی حمایت میں کمی
ایرانی حکومت عراقی شدت پسندوں کی مدد واعانت کی تردید کرتی رہی ہے
امریکی اور عراقی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے عراق میں شدت پسند شیعہ گروپوں کی حمایت کم کر دی ہیں۔

عراقی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی سرگرمیاں اس لیے کم کر دیں کیونکہ اس کو لگتا ہے کہ امریکہ اور عراق کے سکیورٹی معاہدے سے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ایرانی حکومت عراقی شدت پسندوں کی مدد واعانت کی تردید کرتی رہی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل تھامس میٹز کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایرانی ساخت کے بموں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ’ایران میں شیعہ گروپوں کے حامیوں میں سے کسی نے تو یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب اس حمایت میں کمی کی جانی چاہئے۔

عراقی حکومت کے ترجمان علی دباغ نے واشنگٹن میں کہا ہے کہ شورش کے تئیں ایران کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی جانب سے اس طرح کی یقین دہانیاں بھی معاون ثابت ہوئی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کیا جانے والا سکیورٹی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔

27 نومبر کو عراقی پارلیمان نے مستقبل میں ملک میں امریکی فوجی دستوں کی موجودگی کے معاہدے کو منظوری دی ہے۔اس معاہدے کے تحت امریکی افواج 2009 کے وسط تک عراقی سڑکوں سے ہٹا لی جائیں گی اور 2011 تک پوری طرح عراق چھوڑ دیں گی۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد