BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 September, 2008, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس لیبیا کے تاریخی دورے پر
 کونڈولیزا رائس
محترمہ رائس انیس سو ترپن کے بعد لیبیا کا دورہ کرنے والی پہلی امریکی وزیر خارجہ ہوں گی
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس لیبیا کا ’تاریخی‘ دورہ کر رہی ہیں جو حالیہ تاریخ میں امریکی وّیر خارجہ کا لیبیا کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے پہلے انیس سو ترپن میں امریکی وزیر خارجہ لیبیا گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ان کے شمالی افریقہ کے دورے کا حِصّہ ہے۔ وہ تیونس، الجیریا اور مراکش کا بھی دورہ کریں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد تریپولی سے بتاتے ہیں کہ چھ برس قبل اس قسم کے دورے کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن سفارتی اور سیاسی جدوجہد نے اس رخنے کو دور کر دیا ہے۔

محترمہ رائس کا دورہ لیبیا کی جانب سے لاکربی بمباری کے واقعہ کے متاثرین کو معاوضہ نہ دیے جانے جیسی ناکامی کو اجاگر کر سکتا ہے۔

پیر کو ہی لیبیا نےان لوگوں کے لواحقین کے لیےمعاوضہ کے پیکج کو حتمی شکل دی جو انیس سو اٹھاسی میں اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب لاکربی پر سے پرواز کے دوران ایک امریکی طیارے کو بم کے دھماکے سےاڑا دیا گیا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری لیبیا پر عائد کی گئی تھی۔ لیکن اس کی معاوضے کی ادائیگی پر رضامندی سے اب کونڈولیزا رائس کے دورے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے ایک مرتبہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو ’پاگل کتا‘ کہا تھا۔ کرنل قذافی اب محترمہ رائس کی میزبانی کریں گے۔

سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے ایک مرتبہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو ’پاگل کتا‘ کہا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ مستقل دشمنی میں یقین نہیں رکھتا اور یہ کہ جوہری اسلحہ کا پھیلاؤ روکنے کی بش انتظامیہ کی پالیسی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

واشنگٹن اس دورے سے شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک کویہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بھی امریکہ سےاپنے تعلقات استوار کر سکتےہیں۔

اسی ہفتے اٹلی کے وزیر اعظم سِلویو برلسکونی نے لیبیا کے ساتھ سامراجیت کے دور کے تنازعات کے حل کے لیے اس کو پانچ ارب ڈالر ادا کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

معمر قذافی نے بن غازی میں ہونے والے اس معاہدے کے بارے میں کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان شراکت کا راستہ کھلا ہے۔

لیبیا کی سن دو ہزار تین میں سفارتی اعتبار سے تنہائی ختم ہو گئی تھی جب اس نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کی کوشش ترک کر دی تھی۔

اسی بارے میں
لیبیا کے مختلف رنگ
07 January, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد