فرانس اور لیبیا کے درمیان معاہدے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس اور لیبیا کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے اختتام پر دونوں ممالک نے سکیورٹی، صحت عامہ اور امیگریشن سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدے بلغاریہ کے چھ طبی اہلکاروں کی لیبیا میں قید سے رہائی کے دوسرے روز فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اور لیبیا کے معمر قذافی کے درمیان طرابلس میں ملاقات کے بعد ہوئے ہیں۔ چھ بلغارین باشندے لیبیا میں بچوں کو دانستہ طور ایڈز میں مبتلا کرنے کے الزام میں قید کی سزا بھگت رہے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری توانائی کے شعبہ میں بھی معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا جس کے تحت سمندری پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ فرانس اور لیبیا کے رہنماؤں کی ملاقات کو طبی اہلکاروں کی رہائی کے بعد یورپی یونین اور لیبیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ نے معمر قذافی پر یہ واضح کیا تھا کہ تعلقات کی بہتری کے لیے چھ اہلکاروں کو سزا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا حل ضروری ہے۔ امریکہ کی دلچسپی اس کے علاوہ لیبیا لاکربی کے اوپر پرواز کے دوران ایک مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے پر رضامند ہو گیا تھا۔ سنہ انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے اس بم دھماکے میں دو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تب سے لیبیا پر لگی ہوئی بین الاقوامی پابندیاں آہستہ آہستہ اٹھائی جا رہی ہیں۔ فرانسیسی صدر کے ایک معاون نے کہا: ’ ہمارا مقصد یہ ہے کہ لیبیا کے ساتھ تعاون کیا جائے تا کہ وہاں ایک جوہری ری ایکٹر لگا کر سمندر کے نمکین پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔‘
ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی جلد ہی لیبیا کا دورہ کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا ہے کہ امریکہ لیبیا میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا۔ واشنگٹن میں ان کا کہنا تھا: ’ میں جانتی ہوں کہ امریکی کمپنیاں لیبیا میں کام کرنے میں بہت دلچسپی رکھتی ہیں۔‘ رہا کیے جانے والے چھ طبی اہلکار سنہ 1999 سے لیبیا میں زیرِ حراست تھے اور انہیں سنہ 2004 میں سینکڑوں لیبیائی بچوں کو ایچ آئی وی میں مبتلا کرنے کا مرتکب پایا گیا تھا اور سزائے موت سنائی گئی تھی۔ دسمبر دو ہزار پانچ میں لیبیا کی سپریم کورٹ نے اس سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ ان چھ افراد میں ایک فلسطینی نژاد ڈاکٹر بھی شامل تھے جنہیں گزشتہ ماہ بلغاریہ کی شہریت دی گئی تھی۔ نرسیں اور ڈاکٹر اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ زبردستی اعتراف جرم اطلاعات کے مطابق بچوں کو ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس سے متاثر کرنے کے معاملے میں جن بچوں پر تجربات کیے گئے تھے ان کے خاندانوں کو فی بچہ دس لاکھ امریکی ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا گیا ہے۔ ہرجانہ کی اس ڈیل کے تحت ہی اہلکاروں کو دی جانے والی سزائے موت کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ دو دن قبل طرابلس میں اہلکاروں کی رہائی ایک سال کی گفت و شنید کے بعد ممکن ہوئی جس کا مقصد لیبیا اور یورپی یونین کے تعلقات میں بہتری پیدا کرنا ہے۔ رہائی کے لیے جاری مذاکرات کے آخری مرحلے میں فرانس کے صدر کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ اہلکاروں کے بلغاریہ واپس پہنچنے پر ملک کے صدر نے ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا لیکن متاثرہ بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کو دوبارہ گرفتار کیا جائے۔ متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی تنظیم نے ایک بیان میں اہلکاروں کی رہائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ایک لایعنی اقدام اور بے عزتی قرار دیا ہے۔ طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان سے بچوں کو وائرس لگانے کے جرم کا اعتراف تشدد کر کے کرایا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں ایڈز: بلغارین طبی عملے کی رہائی24 July, 2007 | آس پاس لیبیا : طبی کار کنوں کو سزائے موت19 December, 2006 | آس پاس طبی کارکنوں کی سزائے موت ختم25 December, 2005 | آس پاس ’ نرسوں پر تشدد نہیں کیا گیا‘07 June, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||