قذافی کا امریکہ میں جمہوریت پر لیکچر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کے سربراہ کرنل معمر قذافی نے امریکہ کی جامعہ کولمبیا میں درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے افراد سے جمہوریت پر ایک لیکچر کے دوران کہا ہے کہ لیبیا میں کسی بھی مغربی ملک سے زیادہ آزادیاں ہیں۔ سیٹلائٹ پر نیویارک کی جامعہ میں خطاب کرتے ہوئے کرنل قذافی نے کہا کہ ’دنیا میں لیبیا کے سوا کہیں بھی جمہوریت نہیں ہے‘۔ تاہم انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر تنقید کرتے ہوئے ان کو ’پسماندہ‘ قرار دیا۔ کرنل قذافی جامعہ کولمبیا کی طرف سے منعقد کروائی جانے والی ایک دو روزہ کانفرنس میں پینلسٹ کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے۔ کانفرنس میں امریکی مبصرین کے ساتھ ساتھ پینتالیس لیبیائی دانشور بھی شریک تھے۔ کرنل قذافی کا خطاب مغرب اور لیبیا کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی تازہ ترین مثال ہے۔ کرنل قذافی انیس سو انہتر میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں لیبیا کے سربراہ بنے اور انہوں نے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں لیبیا پر تنقید کرتی رہی ہیں کہ وہاں آزادی اظہار اور اجتماع کی پابندی ہے۔ بہت عرصے تک مغرب کی نظر میں بری ریاست کے طور پر جانا جانے والے لیبیا نے سن دو ہزار تین میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیبیا نے انیس سو اٹھاسی میں سکاٹ لینڈ کی فضائی حدود میں تباہ ہونے والے ایک طیارے میں ہلاک ہونے والے لواحقین کو ہرجانہ بھی ادا کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں کرنل قذافی کی شاطرانہ چال22 June, 2004 | صفحۂ اول یورپی یونین نےلیبیا پر پابندیاں اٹھالیں11 October, 2004 | صفحۂ اول مانگنا ترک کریں، افریقیوں کو مشورہ04 July, 2005 | صفحۂ اول بش: قدیر پر تنقید، قذافی کی تعریف11 February, 2004 | صفحۂ اول بلیئر، قذافی تاریخی ملاقات 25 March, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||