BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 March, 2006, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قذافی کا امریکہ میں جمہوریت پر لیکچر
کرنل معمر قذافی
کرنل قذافی کا خطاب مغرب اور لیبیا کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی مثال ہے
لیبیا کے سربراہ کرنل معمر قذافی نے امریکہ کی جامعہ کولمبیا میں درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے افراد سے جمہوریت پر ایک لیکچر کے دوران کہا ہے کہ لیبیا میں کسی بھی مغربی ملک سے زیادہ آزادیاں ہیں۔

سیٹلائٹ پر نیویارک کی جامعہ میں خطاب کرتے ہوئے کرنل قذافی نے کہا کہ ’دنیا میں لیبیا کے سوا کہیں بھی جمہوریت نہیں ہے‘۔ تاہم انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر تنقید کرتے ہوئے ان کو ’پسماندہ‘ قرار دیا۔

کرنل قذافی جامعہ کولمبیا کی طرف سے منعقد کروائی جانے والی ایک دو روزہ کانفرنس میں پینلسٹ کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے۔ کانفرنس میں امریکی مبصرین کے ساتھ ساتھ پینتالیس لیبیائی دانشور بھی شریک تھے۔

کرنل قذافی کا خطاب مغرب اور لیبیا کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی تازہ ترین مثال ہے۔

کرنل قذافی انیس سو انہتر میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں لیبیا کے سربراہ بنے اور انہوں نے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں لیبیا پر تنقید کرتی رہی ہیں کہ وہاں آزادی اظہار اور اجتماع کی پابندی ہے۔

بہت عرصے تک مغرب کی نظر میں بری ریاست کے طور پر جانا جانے والے لیبیا نے سن دو ہزار تین میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیبیا نے انیس سو اٹھاسی میں سکاٹ لینڈ کی فضائی حدود میں تباہ ہونے والے ایک طیارے میں ہلاک ہونے والے لواحقین کو ہرجانہ بھی ادا کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
کرنل قذافی کی شاطرانہ چال
22 June, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد