BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 July, 2007, 06:01 GMT 11:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز: بلغارین طبی عملے کی رہائی
یہ افراد 1999 سے زیرِ حراست تھے
لیبیا میں دانستہ طور پر بچوں کو ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس سے متاثر کرنے جرم میں عمر قید کاٹنے والے طبّی عملے کے چھ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

فرانس اور بلغاریہ کے حکام کے مطابق لیبیائی بچوں کو ایچ آئی وی وائرس منتقل کرنے والی پانچ بلغارین نرسیں اور ایک فلسطینی نژاد بلغارین ڈاکٹر رہائی کے بعد بذریعہ جہاز بلغاریہ پہنچ گئے ہیں جہاں صدر نے ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

ان افراد کی رہائی یورپی یونین کی سالہا سال کی کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے اور اس حوالے سے یورپی یونین کا ایک وفد گزشتہ کئی دن سے بھی لیبیا کے دارالحکومت تریپولی میں موجود تھا۔

یہ چھ افراد سنہ 1999 سے زیرِ حراست تھے اور انہیں سنہ 2004 میں سینکڑوں لیبیائی بچوں کو ایچ آئی وی میں مبتلا کرنے کا مرتکب پایا گیا تھا اور سزائے موت سنائی گئی تھی جسے دسمبر دو ہزار پانچ میں لیبیا کی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

نرسیں اور ڈاکٹر اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ نرسوں کے ہسپتال میں کام کرنے سے پہلے ہی بچے ایڈز کے مرض میں مبتلا تھے۔ان افراد نے کل چار سو چھبیس بچوں کو متاثر کیا تھا جن میں سے پچاس سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دسمبر سنہ 2006 میں دوبارہ سماعت کے بعد بھی ان افراد کو سزائے موت سنائی گئی جسےگزشتہ ہفتے عدالت نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ سزائے موت کی کی عمر قید میں تبدیلی ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثاء کی جانب سے فی بچہ ایک ملین ڈالر زرِ تلافی لینے پر آمادگی کے بعد کی گئی تھی۔

بلغاریہ کے حکام نے لیبیائی حکام سے کہا تھا کہ وہ ان افراد کو بلغاریہ کے حوالے کر دیں تاکہ وہ اپنی سزا وہاں کاٹیں۔ تاہم بلغاریہ کے صدر نے ان افراد کی سزا معاف کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

طبی عملے کی رہائی طرابلس میں یورپی یونین اور لیبیا کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ہوئی۔ فرانس کے صدارتی محل کے حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت لیبیا کی فارم اور فشریریز مصنوعات کو یورپی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی، لیبیائی طلباء کو یورپی یونین کی جانب سے گرانٹ دی جائے گی اور یورپی یونین لیبیا کے آثارِ قدیمہ کی بحالی کا کام سر انجام دے گی۔

اس کے علاوہ لیبیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے مزید اقدمات بھی معاہدے کا حصہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد