’ نرسوں پر تشدد نہیں کیا گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کی ایک عدالت نے نو پولیس اہلکاروں اور ایک ڈاکٹر کو ان الزامات سے بری قرار دے دیا ہے کہ انہوں نے بلغاریہ کی نرسوں سے اقرار جرم کرانے کے لیے ان پر تشدد کیا تھا۔ لیبیا میں ایک فلسطینی ڈاکٹر اور بلغاریہ کے چھ نرسیں کو لیبیا میں دانستہ طور پر ایڈز پھیلانے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے جس کے خلاف ملک کی سپریم کورٹ ستمبر میں اپیل کی سماعت کرئے گی۔ ان نرسوں پر لیبیا کی حکومت کا الزام ہے کہ انہوں نے چار سے زیادہ بچوں کو ایڈز سے متاثرہ خون دیا جس سے وہ اس موذی مرض میں مبتلا ہوئے۔ بلغاریہ کی نرسوں کا کہنا ہے کہ وہ معصوم ہیں اور انہوں نے اس جرم میں شریک ہونے کا اعترف پولیس کے تشدد کی وجہ سے دیا تھا۔ بی بی سی کے رانا جواد نے تریپولی سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس مقدمے کے بارے میں بڑی دلچسپی لی جا رہی ہے اور جب عدالت نے پولیس اہلکاروں کے باے میں عدالت کا فیصلہ آنے کے وقت کمرہ عدالت لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ عدالت نے تمام ملزمان کے نام پکارنے کے بعد اپنے فیصلے میں کہا کہ ان پر تشدد کا الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ ملزموں کے وکیل عبداللہ المغربی نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا کہ ان کو خوشی ہوئی ہے کہ اس کے موکلوں پرلگائے گئے الزامات غلط ثابت ہوئے ہیں۔ بلغاریہ کی نرسوں کی پیروی کرنے والے وکیل نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی رہائی کے فیصلے پر حیران ہوئے ہیں اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا سوچ رہے ہیں۔ لیبیا میں کام کرنے والے ان نرسوں کو 1999 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بلغاریہ کی حکومت اپنے شہریوں کی رہائی کی کوشش کر رہی ہے اور پچھلے ہفتے ہی بلغاریہ کے صدر نے لیبیا کا دورہ بھی کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||