’لیبیا اور فرانس کی اسلحہ ڈیل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیائی حکام کے مطابق لیبیا نے فرانس سے چار سو پانچ ملین ڈالر کے عوض ٹینک شکن میزائل اور مواصلاتی آلات خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ لیبیا کا 2004 میں پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ہتھیاروں کا پہلا سودا ہوگا۔ لیبیائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت لیبیا دو سوتیس ملین ڈالر مالیت کے ’میلان ٹینک شکن میزائل‘ اور ایک سو پچھہتر ملین ڈالر مالیت کے مواصلاتی آلات خریدے گا۔ یہ معاہدہ گزشتہ ماہ لیبیا کی جانب سے بچوں کو دانستہ طور پر ایچ آئی وی میں مبتلا کرنے کی ملزم چھ بلغارین نرسوں اور ایک فلسطینی نژاد بلغارین ڈاکٹر کی رہائی کے بعد عمل میں آیا ہے۔ تاہم فرانسیسی حکام نے ان دونوں واقعات کے باہمی تعلق کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ ان افراد کی رہائی کے اگلے دن فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے لیبیائی رہنما معمر قذافی سے طرابلس میں ملاقات کی تھی اور سکیورٹی، صحت اور امیگریشن جیسے معاملات کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری توانائی کے شعبہ میں بھی معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت سمندری پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ فرانسیسی صدر کے دفتر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس دوران ہتھیاروں کے سودے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔ فرانس اور لیبیا کے رہنماؤں کی ملاقات کو طبی اہلکاروں کی رہائی کے بعد یورپی یونین اور لیبیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ | اسی بارے میں فرانس اور لیبیا کے درمیان معاہدے26 July, 2007 | آس پاس ایڈز: بلغارین طبی عملے کی رہائی24 July, 2007 | آس پاس ’ایٹمی سمگلنگ پہلے سے زیادہ‘27 June, 2007 | آس پاس مغرب نے لیبیا کو مایوس کیا: قذافی06 March, 2007 | آس پاس ’جوہری پروگرام کا معاوضہ نہیں ملا‘02 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||