BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 01:56 GMT 06:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لیبیا اور فرانس کی اسلحہ ڈیل‘
قذافی اور سرکوزی
فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی لیبیائی رہنما معمر قذافی کے ہمراہ
لیبیائی حکام کے مطابق لیبیا نے فرانس سے چار سو پانچ ملین ڈالر کے عوض ٹینک شکن میزائل اور مواصلاتی آلات خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

یہ لیبیا کا 2004 میں پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ہتھیاروں کا پہلا سودا ہوگا۔

لیبیائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت لیبیا دو سوتیس ملین ڈالر مالیت کے ’میلان ٹینک شکن میزائل‘ اور ایک سو پچھہتر ملین ڈالر مالیت کے مواصلاتی آلات خریدے گا۔

یہ معاہدہ گزشتہ ماہ لیبیا کی جانب سے بچوں کو دانستہ طور پر ایچ آئی وی میں مبتلا کرنے کی ملزم چھ بلغارین نرسوں اور ایک فلسطینی نژاد بلغارین ڈاکٹر کی رہائی کے بعد عمل میں آیا ہے۔ تاہم فرانسیسی حکام نے ان دونوں واقعات کے باہمی تعلق کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ ان افراد کی رہائی کے اگلے دن فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے لیبیائی رہنما معمر قذافی سے طرابلس میں ملاقات کی تھی اور سکیورٹی، صحت اور امیگریشن جیسے معاملات کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری توانائی کے شعبہ میں بھی معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت سمندری پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

فرانسیسی صدر کے دفتر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس دوران ہتھیاروں کے سودے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔

فرانس اور لیبیا کے رہنماؤں کی ملاقات کو طبی اہلکاروں کی رہائی کے بعد یورپی یونین اور لیبیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد