 | | | نو مئی انیس سو تینتیس کی یادگار تصویر جب برلن میں ہزارہا کتابیں جلائی گئیں |
ٹھیک پچھہتر سال پہلے جرمنی میں نازیوں نے ہزاروں کتابوں کو جلایا تھا۔ اس سلسلے میں سنیچر کو جرمنی کے مختلف شہروں میں تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ پچھہتر سال قبل اسی روز مشہور نفسیات داں سگمنڈ فرائیڈ اور کارل مارکس جیسے معروف مصنفوں کی کتابوں کو یہ کہہ کر جلا دیا گیا تھا کہ یہ یہودی سوچ سے متاثر ہیں، نا کہ جرمن کردار سے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے اس دن کے حوالے سے مختلف مراسلوں میں بتایا ہے کہ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پچھہتر سال پہلے جس مقام پر ہزاروں کتابوں کو جلایا گیا تھا وہیں سنیچر کو سکول کے بچوں نے انہی کتابوں کے اقتباسات اور نظمیں پڑھیں۔ مئی انیس سو تینتیس میں نازیوں نے برلن اور دوسرے شہروں میں دسیوں ہزار کتابوں کو لائبریریوں اور لوگوں کے گھروں سے ضبط کر کے باہر سڑکوں پر جلا دیا تھا۔ کتابیں جلانے والے ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ’یہ کتابیں فرسودہ ہیں، جرمن تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتیں اور یہودی سوچ سے بہت زیادہ متاثر ہیں‘۔ جن مصنفوں کی کتابیں جلائی گئیں، ان میں تحلیلِ نفسی کے بانی سگمنڈ فرائیڈ، کمیونیزم کے بانی کارل مارکس، ناول نگار ٹامس مان اور امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگوے شامل تھے۔
 | | | برلن میں اس مقام کو جہاں کتابیں جلائی گئی تھیں ایک شیشے سے ڈھک دیا گیا ہے جسے لوگ اوپر سے دیکھ سکتے ہیں سنیچر کو بچوں اس شیشے پر پھول چڑھا کر ان مصنفوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی کتابیں جلائی گئی تھیں |
اسی روز انیسوین صدی کے معروف یہودی جرمن شاعر ہنرخ ہائین کی کتابیں بھی جلائی گئیں جنہوں نے سو سال پہلے اپنی ایک نظم میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ ’جہاں آج وہ کتابیں جلا رہے ہیں، وہیں ایک دن انسانوں کو بھی جلایا جائے گا‘ اور نازی جرمنی میں یہی ہوا۔ انیس سو تینتیس میں کتابوں کو برباد کیا گیا اور اس کے کچھ ہی سال بعد تقریباً ساٹھ لاکھ انسانوں کو ہولناک حالات میں موت کا نشانہ بنایا گیا۔ |