BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 December, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مزید نادم ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘
برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ
ارونگ تین سال جیل میں گزارنے کے بعد برطانیہ لوٹے ہیں (فائل فوٹو)
برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ نے کہا ہے کہ انہیں نازیوں کے ہاتھوں لاکھوں یہودیوں کی نسل کشی یا ہولوکاسٹ پر اپنے خیالات پر ندامت کے اظہار کی مزید ضرورت نہیں ہے۔

تین سال سے قید مسٹر ارونگ پروبیشن پر رہائی کے بعد حال ہی میں برطانیہ آئے ہیں۔ انہیں تین سال کی سزا 1989 میں آسٹریا میں اپنی ایک تقریر میں ہولو کاسٹ سے انکار پر دی گئی تھی۔

بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ندامت کا اظہار نہ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آمری قانون‘ نے انہیں’غلط خیالات‘ کے اظہار کی وجہ سے جیل میں بند کیا۔

ان کا کہنا تھا’400 دن جیل میں گزارنے کے بعد یہی بات پتہ چلتی ہے کہ آپ کو ندامت کے کسی احساس کا حق نہیں ہے۔ آسٹریا کا قانونی نظام انوکھا ہے اور اس میں انگریزی نظامِ قانون کی طرح کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں آپ کو ندامت کے اظہار، گناہ کا اقرار اور اپنا جرم قبول ہی کرنا ہے بصورتِ دیگر ہر چیز تین گنا ہو جائے گی‘۔

مسٹر ارونگ کی سزا پر پوری دنیا میں بحث شروع ہو گئی تھی۔ سزا کے حمایتوں کا کہنا تھا کہ سزا کا فیصلہ درست جبکہ مخالفین کا مؤقف تھا کہ یہ آزادی اظہار کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔

جمعہ کو لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آسٹریا اور جرمنی میں ان سے انتہائی ’ذلت آمیز سلوک‘ کیا گیا۔

17 سال قبل انہوں نے آسٹریا میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ آشوچ میں گیس چیمبرز نہیں تھے۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوئی تھی۔

ارونگ آسٹریا میں اپنے خلاف مقدمے کے دوران (فائل فوٹو)

ارونگ کی سزا کے خلاف استغاثہ اور صفائی کے وکلاء نے اپیلیں کی ہیں۔ دونوں کا موقف ہے کہ سزا غلط ہے۔ استغاثہ زیادہ سزا کا مطالبہ کرتا رہا ہے جبکہ ارونگ کے وکلاء اس میں کمی چاہتے ہیں۔ یہ قانون 1992 میں بنا تھا اور اس کے تحت ہولوکاسٹ سے انکار کرنے کی سزا عمومی طور پر دس سال قید ہے۔

ارونگ کو گزشتہ سال نومبر میں جنوبی آسٹریا سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ دائیں بازو کے طالبِ علموں کے ایک گروہ کو لیکچر دینے جا رہے تھے۔

پروبیشن پر ان کی رہائی پر یہودی گروہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ورلڈ جیوئس کانگریس کے نائب صدر لارڈ جینر کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ مسٹر ارونگ کو اس لیے جیل میں بند کیا گیا کہ وہ ایک تاریخ دان ہیں اور تمام تاریخ دانوں سے کسی بھی دوسرے عام فرد کی طرح کا سلوک کرنا چاہیے۔

ارونگ کا کہنا تھا تھا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور وہ آسٹریا کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ انہیں خاموش رہنے کو کہے تاکہ باقی دنیا تک ان کی بات نہ پہنچ سکے۔

اسی بارے میں
ہولوکاسٹ کے منکر کی اپیل
20 February, 2006 | آس پاس
ہولوکاسٹ سے منکر مؤرخ رہا
20 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد