BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 February, 2009, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دنیا پر پاکستان کا اثر منفی‘
اٹھارہ ممالک میں پاکستان کے بارے میں زیادہ تر منفی رائے پائی گئی
بی بی سی عالمی سروس کے لیے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں دنیا پر پاکستان کے اثر کے بارے میں منفی رائے رکھنے والے افراد کی تعداد میں پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

عالمی رائے عامہ کے اس سالانہ سروے میں دنیا کے اکیس ممالک کے تیرہ ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا اور اس کا انتظام اس قسم کے سروے کرنے والی بین الاقوامی کمپنی گلوب سکین نے کیا۔

گزشتہ سروے میں اکتالیس فیصد افراد نے دنیا پر پاکستان کے اثر کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی تھی اور اس برس یہ شرح بڑھ کر چھپن فیصد تک جا پہنچی ہے۔ سروے میں شامل ممالک میں سے اٹھارہ میں پاکستان کے بارے میں زیادہ تر منفی رائے پائی گئی جبکہ صرف ایک میکسیکو میں یہ رائے مثبت تھی جبکہ دو ممالک نائیجیریا اور انڈونیشیا میں لوگ منقسم نظر آئے۔

اولمپکس بھی چین کی شبیہہ میں بہتری لانے میں کامیاب نہ ہو سکے

غیر مسلم ممالک میں سپین میں اٹھہتر فیصد، امریکہ میں انہتر فیصد اور فرانس میں پچھہتر فیصد افراد نے جبکہ مسلم ممالک میں بھی ترکی میں چھپن فیصد اور مصر میں اکتالیس فیصد افراد نے پاکستان کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔

گزشتہ برس کے برعکس چین اور روس کے بارے میں بھی عالمی رائے عامہ منفی رجحان کا شکار ہے۔سروے کے مطابق جہاں چین کی مثبت شبیہہ کی شرح میں چھ پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے وہیں روس کے بارے میں منفی رائے رکھنے والے افراد کی شرح آٹھ پوائنٹ بڑھ کر بیالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

سروے میں شامل افراد میں سے چالیس فیصد نے چین کے کردار کو منفی جبکہ انتالیس فیصد نے مثبت قرار دیا۔ گلوب سکین کے سربراہ ڈگ ملر کے مطابق ’ ہمارے جائزے کے نتائج سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چین کو دنیا کا دل جیتنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور اولمپکس کھیلوں کا کامیاب انعقاد بھی اس سلسلے میں کافی ثابت نہیں ہوا‘۔

 بھارت کے بارے میں بھی اس برس مجموعی منفی عالمی رائے میں گیارہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ شرح ستائیس فیصد سے برھ کر اڑتیس فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ مثبت رائے کی شرح دو فیصد کم ہو کر انتالیس فیصد پر آ گئی ہے۔

روس کے بارے میں بیالیس فیصد افراد کی منفی رائے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈگ ملر کا کہنا تھا کہ’ روس کے بارے میں رائے عامہ سابقہ سویت یونین جیسی ہی ہے یعنی کہ اس کی سرحدوں سے باہر زیادہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے‘۔

یہ سروے امریکہ میں باراک اوبامہ کے بطور صدر انتخاب کے بعد کیا گیا ہے۔امریکہ میں نئے صدر کے انتخاب کے باوجود اب بھی تینتالیس فیصد افراد کے خیال میں دنیا پر امریکہ کا اثر منفی ہی ہے۔ تاہم سنہ 2005 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روس کے مقابلے میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والے افراد کی شرح زیادہ ہے۔ اس برس چالیس فیصد افراد نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی جو کہ گزشتہ برس سے پانچ فیصد زیادہ ہے۔

بھارت کے بارے میں بھی اس برس مجموعی منفی عالمی رائے میں گیارہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ شرح ستائیس فیصد سے برھ کر اڑتیس فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ مثبت رائے کی شرح دو فیصد کم ہو کر انتالیس فیصد پر آ گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد