BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی قبائلی علاقےاب محفوظ پناہ گاہیں نہیں ‘

گزشتہ ہفتے بھی طالبان کے دو اعلی اہلکار ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے

مغرب اور امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے ماہرین کا تجزیہ ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون سے القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی حمکت عمل بہت کارگر ثابت ہوئی ہے اور یہ علاقے القاعدہ کے لیے ’سیف ہیون‘ یا ’محفوظ ٹھکانہ‘ نہیں رہے ہیں۔

ان ماہرین کے مطابق اب القاعدہ کی قیادت اور اس کے ارکان ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے اپنی پناہ گاہیں تبدیل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور انہیں امریکی فوج پر حملے کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا وقت نہیں ملتا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حملوں کو جاری رکھنے میں بھی کئی قباحتیں بھی ہیں۔ ان حملوں میں عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے پاکستان میں عوامی سطح پر شدید رد عمل بھی پایا جاتا ہے اورانہیں قومی خودمختاری اور وقار کے منافی بھی خیال کیا جاتا ہے۔

اسی بنا پر یہ حملے سیاسی قیادت کے لیے شدید ہزیمت کا باعث بنتے ہیں اور خدشہ یہ ہے کہ عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کہیں پاکستان کے سیاسی نظام کو غیر مستحکم نہ کر دے۔

 سگ کی تحقیقات کے مطابق سن دو ہزار سات میں ہونے والے چھبیس خود کش حملوں میں جن میں خود کش حملہ آور کا سر مل گیا اکثریت محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے سولہ سے بیس سال کے نوجوانوں کی تھی۔

اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں کا یہ سلسلہ کب تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اور کیا طالبان اور مقامی شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔ مزید براں کیا ان حملوں سے میریٹ اور ممبئی حملوں جیسے دہشت گردی کے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔

مغرب کے ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس سابق حکومت کے دور میں طالبان کے خلاف پاکستان کی تمام کارروائیوں اور خاص طور پر پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کوشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور عام خیال یہی تھا کہ پاکستان طالبان کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

گزشتہ سال پاکستان کی نئی سیاسی قیادت کو درپیش مسائل کے انبار کے ساتھ اس تاثر کو ذائل کرنے کا چیلنج بھی تھا۔ اس کے لیے سیاسی قیادت کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت تھی جس میں سب سے مشکل مرحلہ یہ ثابت کرنا تھا کہ پاکستان کا ’سیکیورٹی آپرٹس‘ یا مشینری اس کے مکمل قابو اور اختیار میں ہے۔

اس بنا پر پاکستان کی سیاسی قیادت وقتاً فوقتاً ملک کے سویلین تحقیقاتی اداروں کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جو بائڈن سے ملاقات میں ایک مرتبہ پھرپاکستان کی سول پیرا ملٹری فورسز کو مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے امریکہ حکومت پر زور دیا کہ سویلین تحقیقاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے تریبیت اور جدید آلات کے حصول کے لیے فوری امداد اور تعاون کی ضرورت ہے۔

طالبان نے متوازی عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے


وزیر اعظم گیلانی کا یہ کہنا بھی بہت اہم تھا کہ امریکہ کو پاکستان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے اور ’کوئی اتحادی ایک ہی وقت میں دشمن نہیں ہو سکتا۔‘

جو بائڈن نے پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ ماضی کے بجائے حال سے شروعات کرئے گی۔
انہوں نے کہا کہ گو امریکی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے گا لیکن یہ ماضی کے تناظر میں نہیں ہو گا۔

امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت میں پاکستان کی نیت کے بارے میں شکوک شبہات میں کافی حد تک تبدیل ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے دسمبر میں پاکستان کے دورے کے دوران پاکستان کے سویلین تحقیقاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے چھ ملین پاونڈ کی امداد کا اعلان کیا۔

برطانوی اخبار گارڈین میں گزشتہ ہفتے پاکستان میں دہشت گردی پر ’آن ٹریل آف پاکستانی طالبان‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی طرز پر نیا ادارہ ترتیب دے رہا ہے۔

اس ادارے نے جس کو سپیشل انویسٹی گیشن گروپ (سگ) کا نام دیا گیا ہے ایف آئی کے سابق ڈائریکٹر طارق پرویز کی سربراہی میں کام شروع کر دیا ہے۔ یہ ادارہ ابتدا میں سابق صدر پرویز مشرف نے خود پر ہوئے خودکش حملوں کی تحقیقات کے لیے فوج اور سول اداروں کے انٹیلیجنس اداروں کے ماہروں سے بنایا تھا۔

فی الحال یہ ادارہ 37 ماہرین پر مشتمل ہے اور آگے چل کر اس کے تحقیقاتی شعبے میں تین سو ماہرین شامل ہوں گے، اس کی ایک مسلحہ فورس ہو گی اور اس کے ریسرچ اور انٹیلیجنس ڈپارٹمنٹ ہو گا۔

اخبار کے مطابق برطانوی حکومت نے چھ ملین پاونڈ کے عوض اس ادارے کے ’ڈیٹا‘ اور پکڑے جانے والے شدت پسندوں سے تفتیش تک رسائی رکھنے کی خواہیش ظاہر کی ہے۔

سگ کی تحقیقات کے مطابق سن دو ہزار سات میں ہونے والے چھبیس خود کش حملوں میں جن میں خود کش حملہ آور کا سر مل گیا اکثریت محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے سولہ سے بیس سال کے نوجوانوں کی تھی۔

سگ کی تحقیقات سے قبل کس کو یہ علم نہیں تھا کہ طالبان رہنما بیت اللہ محسود خود کش حملوں کا کس حد تک ذمہ دار ہیں۔ میریٹ پر ہونے والے حملے میں بھی سگ کی تحقیقات کے مطابق خود کش حملہ آور کا تعلق محسود قبیلے سے تھا۔

اسی بارے میں
وزیرستان، دو ’جاسوس‘ ہلاک
12 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد