’امریکہ پالیسی پر نظٌر ثانی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور امریکہ نے سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں اتفاق رائے کی خاطر ایک مشترکہ مذاکراتی گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا امریکہ کے ساتھ اس بات پر اتفاق بھی ہے کہ اس خطے میں شدت پسندی کا مقابلہ محض فوجی طریقے سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے اس خطے کے لیئے اپنی پالیسی کے ازسرنو جائزے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے پالیسی کے ازسرنوجائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکی پالیسی میں اخلاقیات کی جو کمی تھی وہ اب امید ہے پوری کر دی جائے گی۔ یہ باتیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور افغانستان کے لیئے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے رچرڈ سی ہالبروک سے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کی۔ امریکی مہمان نے اسلام آباد میں کافی مصرف دن گزرا اور وزیر خارجہ کے علاوہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا یہ مذاکراتی گروپ مختلف وزارتوں پر مشتمل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ رچرڈ ہالبروک نے انہیں مارچ میں امریکہ دورہ کرنے کی بھی دعوت دی ہے تاکہ نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ایک متقفہ لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کے ذریعے مشترکہ نئی پالیسی تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کوئی بھی پالیسی پاکستان کی شمولیت کے بغیر پائیدار ثابت نہیں ہوسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو سیاسی اور اقتصادی ترقی کی کوششوں میں بھی تیزی لانا ہوگی۔ انہوں نے ملاقات میں امریکی نمائندے کو قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں سے متعلق اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ ہالبروک کا یہ دورہ محض زمینی حقائق جاننے اور لوگوں کی رائے جاننے کے لیئے تھا۔ ’ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان حملوں کے فائدے زیادہ ہیں یا نقصانات۔ اس کے بعد انہیں جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔ ہمیں امید ہے آج قائم کیئے گئے اس گروپ میں آگے چل کر اس موضوع پر بھی زیادہ توجہ کے ساتھ بات ہوگی۔‘ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا صرف فوجی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ وہ ان شدت پسند عناصر کے ساتھ جو بات چیت کے لیئے راضی ہیں بات کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض عناصر ایسے ہیں جن کے ساتھ صرف فوجی طریقے سے ہی ڈیل کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں رچرڈ ہالبروک نے بتایا کہ وہ امریکہ سے نہ کوئی امریکی قیادت کی کوئی تجاویز اور نہ ہی کسی مطالبے کے ساتھ آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی اقتصادی مشکلات کے باوجود پاکستان کی مالی امداد جاری رکھے گا۔ |
اسی بارے میں ’اصل زمینی حقائق جاننے آیا ہوں‘09 February, 2009 | پاکستان ’افغانستان عراق سے زیادہ کٹھن‘09 February, 2009 | آس پاس ’ہالبروک کشمیر میں کردار ادا کریں‘28 January, 2009 | پاکستان ہولبروک آئندہ ہفتے پاکستان جائیں گے30 January, 2009 | پاکستان ’کشمیرہولبروک ایجنڈے پر نہیں‘ 07 February, 2009 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||