BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 03:38 GMT 08:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیرہولبروک ایجنڈے پر نہیں‘

رچرڈ ہولبروک
ہولبروک لندن اور میونخ ہوتے ہوئے پاکستان اور افغانستان جائیں گے
پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک آئندہ ہفتے ہندوستان کے دورے پر بھی آ رہے ہیں۔

ہندوستانی رہنماؤن سے ان کی ملاقات اور بات چیت کے ایجنڈے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ لیکن ان کا یہ دورہ امریکی صدر باراک اوباما کے اس حالیہ بیان کی روشنی میں اہمیت کا حامل ہے کہ خطے میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہولبروک لندن اور میونخ ہوتے ہوئے پاکستان اور افغانستان جائیں گے۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کا دورہ کریں گے ۔ وہ افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیے گئے ہیں ۔ تو آخروہ ہندوستان کے دورے پر کیوں آرہے ہیں جب وہ ان کے ایجبنڈے میں شامل نہیں ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان خطے کا اہم ملک ہے اور افغانستان میں اس کے مفادات ہیں ۔’ہم ہندوستان کے خیالات سے واقف ہونا چاہیں گے کہ سبھی مل کر افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔‘

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ رچرڈ ہولبروک ہندوستانی قیادت سے کشمیر کے سوال پر کوئی بات نہیں کریں گے ۔بقول ان کے ’کشمیر کا سوال ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے‘۔

ہولبروک کے اس دورے کو ہندوستان میں اہمیت دی جا رہی ہے ۔کیونکہ ہندوستان کو افغانستان اور پاکستان کے سلسلے میں امریکہ کی نئی انتظامیہ کے خیالات کے بارے میں براہ راست اندازہ ہو سکے گا۔ لیکن اگر رچرڈ ہولبروک نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے موقف کا ذکر کیا تو ہندوستان انہیں یہ بتانے کی کوشش کرے گا کہ دہشت گردی کا کشمیر کے سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کشمیر کا ذکر کیے جانے پر ہندوستان پہلے ہی اپنی ناخوشی کا اظہار کر چکا ہے۔

ہندوستانی رہنما امریکی ایلچی کو یہ بتائیں گے کہ پاکستان ممبئی حملے کے مبینہ ملزموں کی گرفتاری اور حوالگی کے سلسلے میں تعاون نہیں کر رہا ہے اور یہ کہ امریکہ ان ملزموں کی حوالگی کے لیے پکستان پر دباؤ ڈالے۔

امریکی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہولبروک صدر اوباما اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کوئی پیغام لے کر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد خطے کے رہنماؤں کے خیالات سے واقفیت حاصل کرنا ہے تاکہ امریکہ اسی کی مناسبت سے اپنا لائحہ عمل وضع کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد