’ہالبروک کشمیر میں کردار ادا کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پاکستان اور افغانستان کے لئے مقرر کردہ خصوصی امریکی ایلچی کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ رچرڈ ہالبروک پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور قابل قبول حل کے لئے کام کریں گے۔ یہ بات صدر پاکستان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لئے لکھے گئے مضمون میں کہی ہے۔ صدر زرداری نے مضمون میں کہا ہے کہ اس تجربہ کار سفارتکار کی تقرری خطے کو درپیش انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسائل کے بارے میں صدر باراک اوباما کی سمجھ بوجھ کی آئنہ دار ہے۔ ’پاکستان، افعانستان اور بھارت میں صورتحال بہت نازک ہے لیکن اس کا اتنا خراب ہونا دراصل نئے اور جارحانہ اقدامات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔‘ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر پاکستان نے اس مضمون کے ذریعے پاکستان کے اس موقف کی ترویج کی کوشش کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے لئے مقرر کردہ امریکی ایلچی دراصل پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی مصالحتی کردار ادا کریں گے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما نے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس کے لئے خصوصی ایلچی کی تقرری کا عندیہ دیا تھا اور اس مقصد کے لئے سابق صدر بل کلنٹن کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم رچرڈ ہالبروک کی خصوصی نمائندے کے طور پر تقرری کے وقت ان کے دائرہ کار میں صرف پاکستان اور افغانستان کو شامل کیا گیا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے مضمون کا مرکزی نکتہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل کے لئے رچرڈ ہالبروک کے ممکنہ کردار کو بنایا ہے۔ ’ بالکل اسی طرح جیسے فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطٰی میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے اسی طرح کشمیر کے سوال کا بامقصد حل تلاش کرنا خطے میں استحکام کے لئے ضروری ہے۔‘ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں پانی کی تقسیم کا مسئلہ نہ صرف خطے کے لئے ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اسے حل نہ کرنا محرومیوں کی آگ کو ہوا دینے کے مترادف ہے جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک-امریکہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ بہت جلد رچرڈ ہالبروک جان جائیں گے کہ پاکستان انتہا پسندی کے خلاف اس جنگ میں محض کہنے کا ساتھی نہیں ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی ’کمٹمنٹ‘ کے بارے میں ہمیں کسی سبق کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے اور اس میں ہمارے بیوی، بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔ ’ہم اپنی قوم کو بچانے کے لئے عملی اقدامات کرنے کے لئے اس حد تک جانے کے لئے تیار ہیں کہ ہمارے جنگی منصوبے ہمارے لئے قابل عمل نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ہم امریکہ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں ضروری وسائل مہیا کیے جائیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور سازو سامان فراہم کیا جائے تاکہ ہم دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ انداز میں اقدمات کریں اور ہماری کارروائیاں محض انکی کارروائیوں کا ردعمل بن کر نہ رہ جائیں۔ ہمیں ضروری سامان دیں اور ہم یہ کام کر کے دکھا دیں گے۔‘ |
اسی بارے میں کشمیر میں سکیورٹی چوکس25 January, 2009 | انڈیا کشمیر: دو حزب کمانڈر ہلاک23 January, 2009 | انڈیا بھارت برطانوی وزیر خارجہ سے ناراض22 January, 2009 | انڈیا ساٹھ گھنٹے بعد بھی آپریشن جاری04 January, 2009 | انڈیا کشمیر2008:تشدد، عدم تشدد اور تبدیلی31 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||