بھارت برطانوی وزیر خارجہ سے ناراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں گزشتہ دورے کے دوران برطانوی وزیرخارجہ ملی بینڈ کے مبینہ ’ہتک آمیز‘ رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک سینیئر بھارتی عہدے دار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اپنے دورے کے دوران وہ کسی دوست ملک کے وزیر خارجہ نہیں لگے۔‘ اخبار کے مطابق سینیئر بھارتی عہدے دار نے مسٹر ڈیوڈ ملی بینڈ کے ’حساس معاملات‘ پر دیئے گئے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر ان کا یہ موقف کہ کشمیر پر پاک بھارت تنازعہ اسلامی شدت پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کو مسٹر ملی بینڈ کے اپنے میزبانوں کے ساتھ برتاؤ پر بھی شکایت ہے، خاص طور پر بزرگ بھارتی وزراء سے ان کا بے تکلف رویہ۔ اخبار کے مطابق ایک ایسے معاشرے میں جہاں بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے، مسٹر ملی بینڈ مسلسل بھارتی وزیر خارجہ کو پرنب کہہ کر مخاطب کرتے رہے باوجود اس کے کہ مسٹر پرنب مکھرجی انہیں ’یور ایکسلنسی‘ یا ’مسٹر ملی بینڈ‘ کہہ کے پکارتے رہے۔ اخبار کے مطابق سینیئر بھارتی عہدے دار نے ابتدائی طور پر بھارتی اخبار میں چھپنے والی اس خبر کی تصدیق کی کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کو لکھے گئے ایک خط میں ڈیوڈ ملی بینڈ کے دورے پر احتجاج کیا ہے۔ بعد میں مسٹر منموہن سنگھ کے دفتر اور ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے کسی بھی ایسے خط کے وجود سے انکار کیا۔ اس سے پہلے بھی بھارتی حکومت نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر پر برطانوی وزیرخارجہ ملی بینڈ کے ایک بیان پر اپناشدید ترین ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر جیسے مسئلے پر اسے غیر ضروری مشورہ نہیں چاہیے۔ دلی میں وزرات خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے اس معاملے پر میڈیا کو باقاعدہ بریف کیا اور کہا کہ ملی بینڈ کو اپنے خیلات کے اظہار کا پورا حق ہے اور یہ خیلات پوری طرح ان کے اپنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہندوستان ایک آزاد ملک ہے اور اگرچہ ہم ان کے بیان سے متفق نہیں پھر بھی وہ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے آزاد ہیں تاہم ہمیں جموں کشمیر جیسے ہندوستان کے اندرونی معاملات پر کسی غیر ضروری مشورے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے اخبار گارڈیئن میں اپنے ایک مضمون میں کشمیر پر بھی خیلات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اپنے مضمون میں ہندوستان اور پاکستان کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر دونوں ملک مل کر کام کریں اور کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرلیں تو علاقے میں لوگوں کو ہتھیار اٹھانے کا کوئی موقع نہیں مل سکےگا اور پاکستان بھی اپنی مغربی سرحد کی حفاظت بہتر طور پر کر سکےگا۔ مبصرین کے مطابق ملی بینڈ کا یہ بیان کشمیر اور شدت پسندی کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی بات ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ06 September, 2008 | انڈیا زرداری کی ’خوشخبری‘19 September, 2008 | انڈیا سرینگر:’آزادی مارچ‘ نہیں ہو سکا06 October, 2008 | انڈیا کشمیر:منموہن کی آمد پر مظاہرے10 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کشمیر: باہمی تجارت کل سے20 October, 2008 | انڈیا سرکردہ’ شدت پسند کمانڈر‘ گرفتار14 January, 2009 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||