BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 January, 2009, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساٹھ گھنٹے بعد بھی آپریشن جاری

 فائل فوٹو
فوج کے مطابق آپریشن ابھی بھی جاری ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں شدت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جمعہ سے شروع ہونے والی جھڑپ ساٹھ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جاری ہے۔

پونچھ کے مندھار علاقے کے گھنے جنگلات میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان شدید گولی باری ہو رہی ہے۔

جمعہ کو شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک چار شد پسند اور تین جوانوں سمیت سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فوج کی ناردن کمانڈ کے ترجمان کرنل ڈی کے کچاری نے بتایا ہے کہ ابھی تک شدت پسندوں کی لاشوں کو برآمد نہیں کیا جا سکا ہے لیکن مورچہ پر تعینات فوجیوں نے شدت پسندوں کی لاشوں کو دیکھا ہے۔

سنیچر کو ایک سینئر پولیس اہلکار نریش کمار کی بھی اس تصادم میں موت ہو گئی تھی۔سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیر رکھا ہے۔

حال ہی میں ریاستی انتخابات مکمل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

دقتیں
 شدت پسندوں کے پاس جدید اسلحہ ہے اور مسلسل فائرنگ جاری ہے۔ شدت پسند الگ الگ مقامات سے فائرنگ کر رہے ہیں جسکا یہ مطلب ہے کہ یا تو انہوں نے خود کو گرہوں میں تقسیم کر لیا ہے اور یا پھر وہ اپنی جگہ بدل رہے ہیں
فوج کے اعلٰی اہلکار

فوج کے اعلٰی اہلکاروں نےبتایا ہے کہ شدت پسندوں کے پاس جدید اسلحہ ہے اور مسلسل فائرنگ جاری ہے۔ شدت پسند الگ الگ مقامات سے فائرنگ کر رہے ہیں جسکا یہ مطلب ہے کہ یا تو انہوں نے خود کو گرہوں میں تقسیم کر لیا ہے اور یا پھر وہ اپنی جگہ بدل رہے ہیں۔

جمعہ کو ادھمپور میں واقع فوج کی شمالی کمانڈ کے ہیڈکواٹر کے ترجمان کرنل ڈی کچاری کے مطابق جمعرات کو فوج کو خبر ملی تھی کہ پونچھ کے جنگلات میں کچھ شدت پسند چھپے ہوئے ہیں ، اس کے بعد فوج نے علاقے کو گھیر لیا۔

کرنل ڈی کے کچاری نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں پاکستانی شدت پسند تنظیم جیش محمد اور لشکرِ طیبہ کے اعلی کمانڈوز چھپے ہوئے ہیں۔

فوج اور پولیس کے اعلٰی اہلکاروں نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے علاقے میں کیمپس لگائے ہوئے ہیں۔

دریں اثناء پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے ایک ریٹائرڈ سب انسپکٹر مظفر شاہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مظفر شاہ نے مبینہ طور پر شدت پسندوں کو مدد کی اور پناہ دی تھی۔ مظفر شاہ کو مزید تفتیش کے لیے جموں کے جوائنٹ انٹیروگیشن سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد